چلئے سیدھے مدعے پر آ جاتے ہیں… براہِ راست، دائیں نہ بائیں۔ ہم جس دور میں رہتے ہیں، یہاں کچھ بھی مفت نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے۔ ہر ایک چیز کی اپنی ایک قیمت ہوتی ہے… اور ہاں، ٹیکس بھی۔ اللہ میاں کا شکر ہے کہ ابھی تک اس کی ہوا پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے۔ اگر حکام اس پر بھی ٹیکس عائد کریں تو…تو پھر ہماری ساری کی ساری کمائی اسی میں چلی جائے گی۔ دعا ہے کہ وہ دن کبھی نہ آئے جب کسی کو یہ خیال آئے کہ ہوا پر بھی ٹیکس عائد کیا جانا چاہیے۔لیکن صاحب، اس کا یہ مطلب نہیں ہے، اور بالکل بھی نہیں ہے، کہ ہم ٹیکس عائد کرنے کے خلاف ہیں۔ نہیں صاحب، ایسا نہیں ہے۔ الٹا ہم چاہتے ہیں کہ ٹیکس عائد کیا جائے، اور سو فیصد عائد کیا جائے اْس سردی پر جس نے ہمارا حال بے حال کر دیا ہے۔ اس پر اگر ٹیکس عائد کیا جائے تو یقین کریں کہ سردی ٹنل کے اْس پار سے ہی نو دو گیارہ ہو جائے گی، یہاں نہیں آئے گی۔وہ کیا ہے کہ اس پر ٹیکس اس لیے بھی لازمی ہو جاتا ہے کہ یہ اپنے ساتھ کتنے اخراجات لاتی ہے۔ سوچ لیجیے کہ اگر کم بخت یہ سردی نہیں ہو گی تو ہماری زندگی کتنی آسان ہو جائے گی، اور ہاں، جیب ہلکی نہیں بلکہ بھاری بھاری لگنے لگے گی۔ گھر کا سارا نظام…رہن سہن، کھانا پینا، اوڑھنا بچھونا…سب بدل جاتا ہے۔ اور اللہ میاں کی قسم، یہ جو بدلاؤ ہے، یہ مفت نہیں ہے، سستا نہیں ہے، مہنگا نہیں بلکہ بہت زیادہ مہنگا ہے۔بجلی کا بل تین تا چار گنا بڑھ جاتا ہے۔ حمام کے لیے بالن کا خرچہ الگ سے۔ اور اس دوران حمام میں لکڑی جلانے کے دوران اگر نزلہ زکام نے پکڑ لیا تو… تو جسم کے ساتھ ساتھ جیب تک کو تکلیف ہو جاتی ہے۔ اور اگر نزلہ زکام نہ ہو تو حمام میں بیٹھ کر اگر ہریسہ نہ کھایا تو سردیوں کی اس سے بڑی توہین اور کیا ہو سکتی ہے؟یہ تو کچھ بھی نہیں۔ اگر گننے پر آ جائیں، اخراجات گننے پر آ جائیں تو گنتے گنتے سردیاں نکل جائیں گی، لیکن یہ اخراجات کم نہیں ہوں گے، ختم نہیں ہوں گے۔ انہیں ختم کرنے کا بس ایک راستہ ہے، دوسرا کوئی نہیں… ان سردیوں پر ٹیکس عائد کیا جائے۔ لور منڈا پر روک کر اس سے وہ ٹیکس وصول کیا جائے جو اخراجات اس کی وجہ سے کشمیریوں کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ایک بار یہ آزما کر دیکھ لیں، سردیاں دم دبا کر بھاگ نہ جائیں تو… تو ہمارا نام نہیں۔ ہے نا؟




