دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو ۱۰ نومبر کے لال قلعہ دھماکہ کیس میں گرفتار تین ڈاکٹروں اور ایک واعظ کو۱۲ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔
ایک اور ملزم ڈاکٹر بلال نصیر مَلّا کو بھی پرنسپل اور سیشنز جج انجو باجج چندنا کے سامنے پیش کیا گیا تاکہ اس کے وائس سیمپل کی تصدیق کی جا سکے۔
چاروں ملزمان ،ڈاکٹر مزمل گنائی، ڈاکٹر عدیل راتھر، ڈاکٹر شاہینہ سعید اور مولوی عرفان احمد وگے ‘کو ۸ دسمبر کو دی گئی چار روزہ این آئی اے حراست کی مدت ختم ہونے سے قبل عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالتی کارروائی کی میڈیا کوریج پر پابندی تھی، اور پٹیالہ ہاؤس ڈسٹرکٹ کورٹ کے احاطے کے اندر اور باہر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔
اب تک نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے اس کیس میں آٹھ گرفتاریاں کی ہیں، جو جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے بے نقاب کیے گئے ایک ’وائٹ کالر‘ دہشت گردی کے نیٹ ورک سے منسلک ہے۔
ڈاکٹر بلال نصیر مَلّا، جو جموں کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے رہائشی ہیں، اب تک گرفتار ہونے والے آٹھویں ملزم ہیں۔ این آئی اے ٹیم نے ڈاکٹر کو ۹ دسمبر کو دہلی سے گرفتار کیا، اور انہیں اس سازش میں ایک کلیدی ملزم قرار دیا۔
ایجنسی نے ۹ دسمبر کی اپنی ابتدائی بیان میں کہا تھا، ’’این آئی اے کی تحقیقات کے مطابق بلال نے جان بوجھ کر ہلاک شدہ ملزم عمر ان نبی کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرکے اس کی پناہ دی۔ وہ دہشت گردانہ حملے سے متعلق شواہد کو تباہ کرنے کے بھی ملزم ہیں‘‘۔
ایجنسی نے بیان میں یہ بھی کہا’’خودکش دھماکے سے متعلق مختلف سراغوں پر عمل جاری ہے، اور دیگر ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے ریاستی پولیس کے ساتھ تال میل میں متعدد ریاستوں میں تلاشی کارروائیاں کی جا رہی ہیں‘‘۔
ملزم عمر ان نبی وہی شخص تھا جو ۱۰ نومبر کو لال قلعہ کے باہر دھماکہ خیز مواد سے بھری آئی ۲۰ کار چلا رہا تھا، جس کے پھٹنے سے ۱۵؍ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔
پی ٹی آئی کی پہلے کی ایک رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹروں کے ایک گروہ کی سربراہی میں چلنے والا یہ جدید دہشت گرد نیٹ ورک گزشتہ سال سے ایک خودکش حملہ آور کی تلاش میں سرگرم تھا، اور عمر اس منصوبے کا مبینہ مرکزی کردار تھا۔









