ندائے مشرق قیب ڈیسک
سرینگر/۱۰دسمبر
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں ہزاروں بچوں کو شدید غذائی قلت کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کروایا جا چکا ہے۔
یونیسیف غزہ میں غذائی قلت کے خلاف کام کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے بعد سے اب تک نو ہزار 300 بچے شدید غذائی قلت کے باعث ہسپتال میں داخل کیے جا چکے ہیں۔
اگست میں جب غزہ میں انسانی بحران عروج پر تھا تو اس وقت غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد 14 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔
یونیسیف کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وقت کے مقابلے میں یہ تعداد کم ہے ، لیکن یہ اب بھی چونکا دینے والی حد تک زیادہ ہے اور متعدد وعدوں کے باوجود غزہ کے لیے امداد کی سپلائی ناکافی ہے۔
ادارے کی ترجمان ٹیس انگرام نے غزہ سے جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا، ’ہسپتال میں داخل کیے جانے والے بچوں کی تعداد فروری کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔‘
یونیسیف کا کہنا ہے کہ ان کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پیدائش کے پہلے دن ہی مرنے والے بچوں کی تعداد میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انگرام کا کہنا ہے کہ 2022 میں ہر ماہ اوسطاً 27 بچے غذائی قلت سے ہلاک ہوتے تھے، یہ تعداد جولائی اور ستمبر 2025 کے درمیان بڑھ کر 47 ماہانہ ہو گئی۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان تمام معاملات کو قبل از وقت پیدائش یا کم وزن کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم ڈاکٹروں کے مطابق یہ علامات بیشتر کیسز میں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ہی پیدائشی امراض کے کیسز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
انگرام کا کہنا ہے کہ پیدائش کے وقت بچوں کا کم وزن ’اکثر ماں میں غذائیت کی کمی، اس میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور پیدائش سے قبل دیکھ بھال کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔‘
’غزہ میں، ہم تینوں عوامل دیکھ رہے ہیں، اور ردعمل تیز یا ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔‘
دریں اثنا غزہ کے امدادی سامان اور تجارتی اشیا کی آمد و رفت کے لیے اسرائیل نے اردن کے ساتھ ایلینبی کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کردیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 23 ستمبر سے بند کراسنگ آج سے کھول دی جائے گی، اسرائیلی سکیورٹی حکام نے بتایا کہ کراسنگ کھلنے کے بعد ڈرائیورز اور کارگو ٹرکس کی سخت اسکریننگ کی جائے گی اور اس حوالے سے خصوصی سکیورٹی فورس کو تعینات کردیا گیا ہے ۔
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سینئر رہنما حسام بدران کا کہنا ہے کہ جنگ بندی جاری رکھنے کیلئے اسرائیل پر مزید دباؤ بڑھایا جائے ۔
رپورٹ کے مطابق حماس رہنما حسام بدران کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیلی فوج کی جانب سے جارحانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو جنگ بندی کو جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔
اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر عالمی دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ طے شدہ معاملات پر عمل درآمد کرے ۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کرنے پر حماس نے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد سے انکار کر دیا ہے ۔










