سرینگر/جموں/۵ دسمبر
جموں کشمیر کے دو تجارتی ہوائی اڈوں پر جمعہ کو افراتفری کا ماحول دیکھنے کو ملا جب سرینگر سے۱۳؍ اور جموں سے ۱۱؍ انڈیگو پروازیں اچانک منسوخ کر دی گئیں، جس کے بعد سینکڑوں مسافروں نے ایئرلائن پر’بحران کے وقت بے توجہی‘کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کیا۔
انڈیگو کی ملک بھر میں فلائٹ آپریشنز پائلٹ روسٹرنگ مسائل کی وجہ سے مسلسل متاثر ہو رہے ہیں۔
جمعہ کو ایئرلائن نے سرینگر ہوائی اڈے سے۳۶ پروازیں آپریٹ کرنی تھیں…۱۸آمد اور ۱۸ روانگی کی‘ حکام نے بتایا۔تاہم روسٹرنگ مسائل کے باعث انڈیگو نے ۱۳ آنے والی اور اتنی ہی جانے والی پروازیں منسوخ کر دیں۔
ان منسوخیوں کے نتیجے میں ہوائی اڈے پر شدید احتجاج دیکھنے کو ملا، جہاں مسافر وضاحت کے مطالبے پر بضد تھے۔ ایک اہلکار نے کہا ’’صورتحال کو فوری طور پر قابو میں لیا گیا‘‘۔
دہلی جانے والے ایک مسافر نے کہا کہ اس صورتحال نے لوگوں کو سخت پریشان کر دیا ہے۔نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش رکھنے والے مسافر نے بتایا’’مسافر غصے میں چیخ رہے تھے اور تاخیر اور منسوخی کی وجہ پوچھ رہے تھے‘‘۔
ہوائی اڈے کے باہر ایک اور مسافر، کولکتہ کے رشب کمار نے خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسافر ایئرلائن کے رویے سے ’ہراسانی‘ کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا’’مجھے کل کولکتہ سے سرینگر کے راستے دہلی پہنچنا تھا۔ انہوں نے ہمیں کولکتہ میں یقین دلایا کہ سرینگر پہنچتے ہی دہلی والی پرواز تیار ہوگی۔ لیکن یہاں آکر کسی نے کوئی مدد نہیں کی، نہ انڈیگو نے، نہ ہوائی اڈے کے حکام نے‘‘۔
کمار نے بتایا کہ ان کے گروپ کو تقریباً چار گھنٹے ہوائی اڈے پر ‘‘مشکلات’’ کا سامنا کرنا پڑا۔’’پہلے آج کی ہماری پرواز ۱۵:۱ بجے دوپہر کیلئے دوبارہ شیڈول کی گئی۔ پھر وہ بھی منسوخ کر دی گئی۔ کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی‘‘۔
انڈیگو پر مسافروں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایئرلائن کے کئی اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا’’لیکن سب جگہ ایک جیسا رویہ ہے، کوئی مدد کو تیار نہیں‘‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایئرلائن نے کوئی وجہ بتائی؟ تو انہوں نے کہا کہ نہ کوئی وضاحت دی گئی اور نہ ہی کوئی مدد۔’’میں نے کل کولکتہ ہوائی اڈے پر پیش آنے والی صورتحال کی ویڈیوز ایکس پر پوسٹ کیں۔ میں نے انڈیگو، ہوائی اڈہ حکام، متعلقہ محکموں اور یہاں تک کہ ہمارے ایوی ایشن منسٹر کو بھی ٹیگ کیا۔ ہمیں بہت ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے‘‘۔
کیریلا سے آیا ایک جوڑا بھی سرینگر میں پرواز منسوخ ہونے کے باعث پھنس گیا۔شوہر حیدر اللہ نے کہا’’میں نے صبح فلائٹ اسٹیٹس چیک کیا تھا، وہاں ’آن ٹائم‘ دکھا رہا تھا۔ لیکن یہاں پہنچ کر بتایا گیا کہ پرواز منسوخ ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان میں ایک تقریب تھی، جس میں وقت پر پہنچنا ممکن نہیں رہا۔ان کا مزید کہنا تھا’’میں نے انہیں کہا کہ مجھے آج جانا ضروری ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ آج یا کل کوئی پرواز دستیاب نہیں۔ شاید پرسوں…‘‘وہ افسوس سے بولے’’ہم واپس ہوٹل جا رہے ہیں، لیکن یہ سب مشکل اور مہنگا ہے‘‘۔
اسی طرح کی صورتحال جموں ہوائی اڈے پر بھی دیکھی گئی، جہاں۱۱ پروازوں کی منسوخی نے مسافروں میں بے چینی پیدا کر دی۔
انکوائری کاؤنٹر پر لمبی قطاریں لگ گئیں، اور لوگ اپنی پروازوں کی صورتحال جاننے کی کوشش کرتے رہے۔
لکھنؤ کی سواتی، جو ماتا ویشنو دیوی یاترا کے بعد واپس جا رہی تھیں، نے کہا’’ہم یہاں دو گھنٹے سے کھڑے ہیں، لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں۔ انہوں نے کہا پرواز منسوخ ہے، اب میں کہاں جاؤں‘‘؟
ایک اور مسافر، ارتی رزدان، جو بنگلورو جا رہی تھیں، نے بتایا’’میں شادی میں شرکت کے لیے آئی تھی۔ میری پرواز پہلے۲ دسمبر کو تھی، پھر دو دن لگاتار منسوخ ہوئی، اور آج بھی‘‘۔انہوں نے شکایت کی ’’میری دو دن کی چھٹی تھی، لیکن منسوخیوں کے باعث ایک ہفتہ یہاں گزارنا پڑا۔ میرے بچے کا امتحان تھا، وہ بھی نہیں دے سکا۔ ہم صبح۸ بجے سے یہاں ہیں، لیکن کوئی حل نہیں مل رہا‘‘۔
ایک اہلکار نے کہا’’ہم مسافروں کے غصے کا سامنا کر رہے ہیں۔ جو معلومات ہمارے پاس ہیں وہی بتا رہے ہیں‘‘۔
ملک بھر میں انڈیگو پائلٹ روسٹرنگ کے مسائل کی وجہ سے بڑے پیمانے پر پروازوں کی منسوخی کا شکار ہے، جس کے باعث مسافر کئی بار تین تین دن تک پھنسے رہے ہیں۔ (ایجنسیاں)ویب ڈیسک










