’ہمدردانہ تقرریاں احسان نہیں، حق ہیں‘حکومت اپنا فرض ادا کر رہی ہے‘معاملات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے‘
جموں/۳ دسمبر
وزیراعلیٰ ‘عمر عبداللہ نے آج ایس آر او۴۳؍ اور ری ہیبیلیٹیشن اسسٹنس اسکیم (آر اے ایس ۲۰۲۲) کے تحت ہمدردانہ تقرریوں کے بیک لاگ کو نمٹانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے یقین دلایا کہ جہاں بھی ضرورت پڑے، اس عمل کو آسان، تیز اور مکمل طور پر شفاف بنانے کیلئے ضروری نرمی دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کنونشن سینٹر جموں میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے ایس آر او۴۳؍اور۲۰۲۲ آر اے ایس کے تحت اہل اْمیدواروں کو تقرری نامے، جبکہ محکمہ تعلیم کے کنٹی جنٹ پیڈ ورکرز (سی پی ڈبلیوز ) کو مستقلی کے احکامات بھی فراہم کیے۔
اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ‘جو محکمہ جی اے ڈی کے سربراہ بھی ہیں‘نے کہا کہ حکومت ایس آر او۴۳؍اور۲۰۲۲ آر اے ایس کے زیر التواء معاملات کو جلد از جلد نمٹانے کیلئے پْرعزم ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’ایس آر او۴۳کے احکامات کے حوالے سے میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم بقیہ مقدمات جلد سے جلد نمٹانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ جہاں ضرورت ہو، قواعد کے مطابق نرمی دی جائے گی اور پورا عمل انتہائی شفاف رکھا جائے گا‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے ہمدردانہ تقرریوں کیلئے رجوع کرنے والے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقرریاں کوئی احسان نہیں بلکہ ایک مستحقانہ حق ہیں’’آپ مشکل ترین وقت میں حکومت کے پاس آتے ہیں۔ یہ حکومتی ذمہ داری ہے کہ آپ کا ساتھ دے۔ یہ کوئی عنایت نہیں‘یہ آپ کا حق ہے‘‘۔
سی پی ڈبلیوز کے دیرینہ مستقلی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’سی پی ڈبلیوز کیلئے یہ دن خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ سکینہ صاحبہ نے کہا، ہم مزید مستقلی کے احکامات بھی جلد جاری کریں گے۔ اور جن اہل امیدواروں نے آر اے ایس اور ایس آر او۴۳ کے تحت تقرریاں حاصل کی ہیں، میں جانتا ہوں کہ آپ کو یہاں تک پہنچنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کیلئے میں معذرت خواہ ہوں‘‘۔
عمرعبداللہ نے تسلیم کیا کہ ایس آر او ۴۳؍اورآر اے ایس معاملات میں تاخیر قابلِ قبول نہیں’’ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ جب ایک سرکاری نظام موجود ہے، اسے خودکار طریقے سے چلنا چاہیے۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم طریقہ کار کو مزید آسان کریں گے، رکاوٹیں دور کریں گے۔ چونکہ جی اے ڈی میرے پاس ہے، میں ذاتی طور پر یقینی بناؤں گا کہ کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ یہ احکامات دینا حکومت کا فرض ہے، نہ کہ کوئی رعایت’’اگر ہم آپ کے مشکل وقت میں آپ کی پریشانی بڑھا دیں، تو ہم اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہیں گے۔ یہ ملازمتیں آپ کا حق ہیں، اور انہیں فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ تاخیر پر میں دوبارہ معافی چاہتا ہوں، مگر یقین دلاتا ہوں کہ پورا عمل مزید آسان بنایا جائے گا‘‘۔
عمرعبداللہ نے نئے مقرر شدہ امیدواروں کو دلجمعی سے کام کرنے کی تلقین بھی کی’’آپ پر ایک بڑی ذمہ داری آئی ہے۔ اسے پوری ایمانداری سے نبھائیں۔ ہم ہمیشہ آپ کی مدد کیلئے موجود ہیں۔ اگر کسی مشکل کا سامنا ہو، میرے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں‘‘۔
وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ سی پی ڈبلیوز کیلئے مزید مستقلی احکامات محکمہ تعلیم کی جانب سے وزیر سکینہ ایتو کی نگرانی میں جلد جاری کیے جائیں گے۔
موقع پر وزیر سکینہ ایتو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت نے ایس آر او ۴۳؍ اور ۲۰۲۲ آر اے ایس معاملات کو اولین ترجیح دی ہے تاکہ طویل عرصے سے التواء کا شکار اہل امیدواروں کی شکایات دور کی جا سکیں۔
عمرعبداللہ نے کہا’’تقریباً دس برس کی جدوجہد کے بعد مستحق امیدواروں کو آج اپنا حق مل سکا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ سی پی ڈبلیوز کی مستقلی حکومت کے اْس وسیع تر وڑن کا حصہ ہے جس کے تحت وہ برسہا برس خدمات انجام دینے والے ملازمین کو ریلیف فراہم کرنا چاہتی ہے۔ڈی پی آئی آر










