سرینگر/۲دسمبر
سعودی عرب میں دسمبر کا آغاز ہوتے ہی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہوٹلنگ سیکٹر میں غیر معمولی تیزی نوٹ کی جا رہی ہے، اور دونوں مقدس شہروں میں ہوٹل کرایوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
خلیجی ممالک میں اس ماہ نیشنل ڈے اور اسکولوں کی تعطیلات کے آغاز نے عمرہ و زیارت کی طلب کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، جس کا براہ راست اثر ہوٹل کرایوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا۔
سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مرکزی علاقوں‘ خصوصاً حرم شریف اور مسجد نبوی کے اطراف ‘ میں ہوٹل کرایوں میں نومبر کے مقابلے میں۰۴فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہوٹلنگ سیکٹر کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کی فیملیز کی جانب سے بڑے پیمانے پر ایڈوانس بکنگ نے قیمتوں کو فوری طور پر اوپر کی طرف دھکیل دیا ہے۔
مرکزی علاقوں سے باہر بھی صورتحال مختلف نہیں، البتہ وہاں کرایوں میں ۵۱ سے۰۲ فیصد اضافے کی اطلاع دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق کرایوں میں یہ اضافہ وقتی نہیں بلکہ دسمبر کے وسط تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں اس ماہ نیشنل ڈے کی تقریبات اور اسکولوں کی طویل تعطیلات کے باعث شہری بڑی تعداد میں عمرہ اور زیارت کے لیے مملکت کا رخ کر رہے ہیں۔
ہوٹل بزنس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دسمبر کے پہلے ہفتے کے لیے جیسے ہی تعطیلات کا شیڈول جاری ہوا، دونوں مقدس شہروں میں ہوٹلوں کی ۰۰۱فیصد بکنگ مکمل ہو گئی۔ اس کے علاوہ کچھ ہوٹلوں نے جنوری کے اوائل تک کیلئے بھی دستیاب کمروں کی محدود بکنگ کا اعلان کیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمرہ سیزن غیر معمولی مصروف رہے گا۔
مارکیٹ کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ کرایوں میں اس وقت اضافہ طلب اور رسد کے فرق کی وجہ سے ہے۔ زیارت کے ارادے سے آنے والی ٹولیاں، فیملیز اور گروپس پہلے سے کہیں زیادہ تعداد میں کمروں کی بکنگ کرا رہے ہیں، جبکہ ہوٹلنگ سیکٹر موجودہ طلب کو پورا کرنے کے لیے پوری صلاحیت پر چل رہا ہے۔
ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ جیسے ہی رواں ماہ کے وسط کے بعد خلیجی تعطیلات ختم ہوں گی، کرایوں میں کچھ کمی متوقع ہے، تاہم عمرہ سیزن کی خاص سرگرمیوں، سال نو کی آمد اور سرد موسم میں زائرین کی بڑھتی تعداد کے باعث قیمتیں دوبارہ بڑھنے کا امکان ہے۔ اگر تعداد اسی رفتار سے بڑھی تو جنوری اور فروری میں ہوٹل کرائے گزشتہ برس کے مقابلے میں اور زیادہ رہیں گے۔
سماجی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پچھلے چند برسوں کے بعد یہ پہلا موسم ہے جب عمرہ زائرین کی آمد معمول سے کہیں زیادہ متحرک ہے۔ کورونا کے بعد بحال ہونے والے عمرہ ویزا نظام، آسان سفری سہولیات اور ہوائی کرایوں میں نسبتا کمی نے بھی زائرین کی آمد میں اضافہ کیا ہے۔ اس صورتحال میں ہوٹل مالکان کے لیے یہ دسمبر کا مہینہ’گولڈن پیریڈ‘ سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بعض زائرین نے ہوٹل کرایوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ عاجزانہ بجٹ رکھنے والے عمرہ زائرین کیلئے اب مناسب رہائش کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم ہوٹلنگ سیکٹر کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ موسمی ہے اور چند ہفتوں بعد صورتحال معمول پر آ جائے گی۔
ماہرین نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آخری وقت پر بکنگ کرنے کے بجائے کم از کم ۲ سے۳ ماہ قبل اپنی رہائش طے کریں تاکہ غیر ضروری اضافی کرایوں سے بچ سکیں۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک )










