سرینگر/۱۹ نومبر
وزیر سکینہ ایتو نے بدھ کو کہا کہ شدید سردی کے پیشِ نظر پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کیلئے سرمائی تعطیلات ممکنہ طور پر دسمبر کے پہلے ہفتے سے شروع ہو جائیں گی۔
سرینگر میں ذرائع ابلاغ کے نمائنوں نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ والدین مسلسل سرمائی تعطیلات کے شیڈول کے اعلان کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔ ’’سردیوں کا موسم کم عمر بچوں کے لیے کافی مشکل ہوتا ہے۔‘‘
ایتو نے مزید کہا، ’’ہم نے سرمائی تعطیلات کے حوالے سے پہلے ہی ایک میٹنگ کی ہے اور ابتدائی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ پہلی سے مڈل کلاس تک کے طلبہ کے لیے تعطیلات غالباً دسمبر کے پہلے ہفتے سے ہوں گی۔‘‘
نصابی کتابوں سے متعلق مسئلے پر وزیر نے کہا، ’’ہم نے اس معاملے کو بڑی حد تک منظم کر لیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’یہ یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ کتابوں یا یونیفارمز کی کوئی قلت نہ ہو۔‘‘
وزیر ایتو نے مزید بتایا کہ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے سیکریٹری، چیئرمین، ایجوکیشن سیکریٹری اور دیگر متعلقہ حکام کو سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ان نجی اسکولوں کے خلاف کارروائی کریں جو سرکاری قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
ایتو نے کہا، ’’کسی بھی نجی اسکول کے خلاف کتابوں یا فیس سے متعلق شکایت موصول ہوئی تو ہم یقینی طور پر سخت کارروائی کریں گے۔‘‘
دریں اثناجموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے تعلیمی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کے خلاف بڑی کارروائی شروع کر دی ہے، جن میں وہ اسکول شامل ہیں جو بورڈ منظور شدہ کتابوں کے بجائے نجی پبلیکیشنز تجویز کر رہے تھے۔
بورڈ کی جوائنٹ سیکریٹری شہناز چودھری نے بتایا کہ چار نجی اسکولوں کی وابستگی ختم کی جا رہی ہے، جبکہ آٹھ اسکولوں پر بورڈ کی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
چودھری نے کہا، ’’ہم نے مختلف اضلاع میں کئی اسکولوں کا معائنہ کیا، اور جہاں کہیں بھی نجی پبلیکیشنز استعمال ہوتی پائی گئیں، وہاں کارروائی کی گئی۔ آٹھ اسکولوں کو جرمانہ کیا گیا ہے اور چار اسکولوں کی بورڈ سے وابستگی منسوخ کیا جا رہا ہے۔‘‘
جوائنٹ سیکریٹری نے کہا کہ بورڈ سے منسلک ہر نجی اسکول ایس آر او ۱۲۳ کے تحت طے شدہ اصولوں پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ ’’شق۱۱ میں واضح طور پر درج ہے کہ ان اسکولوں میں وہی کتابیں استعمال ہوں گی جو بورڈ مقرر کرے گا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ بورڈ کی کتابیں این سی ای آر ٹی معیار کے مطابق تیار کی گئی ہیں تاکہ تدریس کے ساتھ ساتھ مسابقتی امتحانات کی تیاری میں بھی مدد مل سکے۔
چودھری نے یہ بھی کہا کہ نجی پبلیکیشنز طلبہ اور والدین پر بھاری مالی بوجھ ڈالتی ہیں، جبکہ بورڈ کی کتابیں نسبتاً سستی ہوتی ہیں۔ ’’نجی کتابیں والدین کو ہزاروں میں پڑتی ہیں، جبکہ بورڈ کی کتابیں سینکڑوں میں دستیاب ہیں،‘‘ انہوں نے کہا اور والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کے مفاد میں تجویز کردہ نصاب پر بھروسہ کریں۔
۲۰۲۰ کے بیگ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے، جس کا مقصد کم عمر طلبہ پر تعلیمی بوجھ کو کم کرنا ہے، چودھری نے کہا کہ نرسری اور پرائمری کلاسز کے لیے اسکول بیگ نہیں ہونے چاہئیں۔ ’’پہلی اور دوسری جماعت کے لیے بیگ کا وزن ایک سے۳ء۱ کلوگرام کے درمیان ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا اور زور دیا کہ تعلیم دباؤ سے آزاد ہونی چاہیے اور ضرورت سے زیادہ کتابوں پر منحصر نہیں۔
ماضی کے قانونی معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے شہناز نے کہا کہ۲۰۲۲ میں بعض اسکولوں نے نجی پبلیکیشنز متعارف کرانے کی اجازت لینے کے لیے بورڈ کے خلاف عدالت کا رخ کیا تھا۔ ’’تب بھی قابلِ احترام عدالت نے سیکشن ۲۶کے تحت بورڈ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ اسکولوں کو بورڈ کی تجویز کردہ کتابوں ہی پر عمل کرنا ہوگا۔‘‘
والدین کے خدشات کے ازالے کے لیے، شہناز نے بتایا کہ ہیڈ آفس اور تمام سب آفسز میں شکایتی سیل قائم کیے گئے ہیں۔ ’’والدین بلا جھجھک شکایات درج کر سکتے ہیں۔ وہ ہمارے دفاتر آ کر تحریری طور پر اپنی شکایات جمع کروائیں، اور اس پر ضروری کارروائی کی جائے گی۔
(ندائے مشرق خبر)‘‘










