سرینگر/۱۹ نومبر
دہلی میں حالیہ دھماکے کے پیش نظر اور خطے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت پولیس نے شوپیان اور کولگام اسپتالوں کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر منگل کو ڈسٹرکٹ اسپتالوں اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹر زینہ پورہ میں عملے اور ڈاکٹروں کے لاکروں کی تفصیلی جانچ پڑتال کی۔
ایک افسر نے بتایا کہ اس مہم کا مقصد اسپتال کے احاطے میں موجود بے دعویٰ، بغیر نگرانی یا شناخت نہ ہونے والے لاکروں کی نشاندہی کرنا تھا تاکہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے دوران کسی بھی جگہ یا سہولت کو غلط استعمال سے محفوظ رکھا جا سکے۔
جانچ کے دوران تمام لاکرز کی پڑتال اور تصدیق کی گئی۔ جن لاکروں کو بے دعویٰ، غلط لیبل شدہ یا بغیر کسی درست ملکیت کے پایا گیا، ان کا ریکارڈ درج کرتے ہوئے ضروری کارروائی کے لیے نشاندہی کی گئی۔
اسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمام الاٹ شدہ لاکروں کا درست ریکارڈ برقرار رکھا جائے اور شناختی طریقہ کار پر سختی سے عمل کیا جائے۔
افسر نے مزید کہا کہ اس مہم کا مقصد ادارہ جاتی سلامتی کو مضبوط بنانا، چوکسی بڑھانا اور عوامی سہولیات کے کسی بھی ممکنہ غلط استعمال کے امکان کو ختم کرنا ہے۔
درایں اثنا، کولگام پولیس نے محکمہ صحت کے میڈیکل افسران کے ہمراہ بدھ کو ضلع کی متعدد طبی اداروں میں ڈاکٹروں اور عملے کی جانب سے استعمال ہونے والے لاکرز اور اسٹوریج ریکس کا معائنہ کیا تاکہ کسی بھی غلط استعمال کو روکا جا سکے اور داخلی سکیورٹی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شفافیت، جوابدہی اور اسپتال کے بنیادی ڈھانچے کے درست استعمال کو یقینی بنانے کی جاری کوششوں کے تحت، کولگام پولیس نے آج محکمہ صحت کے میڈیکل افسران کے ساتھ مل کر ضلع کے مختلف طبی اداروں میں ڈاکٹروں اور عملے کے زیرِ استعمال لاکرز کی جانچ کی۔
بیان کے مطابق، یہ معائنہ اس لیے کیا گیا تاکہ لاکرز کے ممکنہ غلط استعمال غیر مجاز اشیاء کے ذخیرے کو روکا جا سکے اور طبی اداروں کے اندر سکیورٹی اقدامات کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
جانچ کے دوران، تمام ریکس اور لاکرز کا مکمل معائنہ کیا گیا، اور عملے کو ہدایت دی گئی کہ وہ درست ریکارڈ برقرار رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ لاکرز صرف سرکاری اور جائز مقاصد کے لیے استعمال ہوں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کولگام پولیس نے اعادہ کیا ہے کہ اس نوعیت کی جانچ معمول کی نگرانی کے تحت جاری رہے گی تاکہ اسپتالوں میں محفوظ اور مستحکم ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
(ندائے مشرق خبر)










