لندن، 15 نومبر (یو این آئی)
برطانوی جریدے گارڈین نے غزہ سے متعلق امریکہ کا ایک نیا ہولناک منصوبہ بے نقاب کیا ہے ، جس کے تحت اس فلسطینیوں کے اس محصور شہر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔
برطانوی جریدے گارڈین نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے غزہ کی طویل مدت تقسیم کا ایک منصوبہ تیار کیا ہے ، امریکی فوجی منصوبہ بندی کی دستاویزات کے مطابق امریکہ غزہ کی طویل المدتی تقسیم کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ، جس کے تحت ایک ”گرین زون” ہوگا جو اسرائیلی اور بین الاقوامی فوجی کنٹرول میں ہوگا، جہاں تعمیرِ نو کا آغاز ہوگا اور ایک ”ریڈ زون” ہوگا جسے کھنڈرات کی صورت میں چھوڑ دیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کے مشرقی حصے میں ابتدائی مرحلے میں غیر ملکی فوجی دستے اسرائیلی اہلکاروں کے ساتھ تعینات ہوں گے ، اور اس طرح تباہ شدہ پٹی موجودہ اسرائیلی زیرِ کنٹرول ”یلو لائن” سے کٹی رہے گی۔
امریکی فوجی منصوبوں نے اس بات پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا واشنگٹن گزشتہ ماہ اعلان کردہ جنگ بندی کو ایک دیرپا سیاسی سمجھوتے میں بدلنے میں واقعی سنجیدہ ہے ، جس کے تحت غزہ پر فلسطینی حکمرانی کا وعدہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔ غزہ کے مستقبل سے متعلق منصوبے نہایت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، جو اس پیچیدہ اور دیرینہ تنازع کو حل کرنے اور 20 لاکھ فلسطینیوں کو خوراک اور پناہ سمیت امداد فراہم کرنے کی ایک ہنگامی اور بے ربط کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گرین زون کی تعمیر نو سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے ، جریدے کا کہنا ہے کہ امریکا نے ‘متبادل محفوظ کمیونٹیز’ کا منصوبہ ترک کر دیا ہے ، اور غزہ میں مستقل امن اور فلسطینی حکمرانی سے متعلق مریکی وعدوں پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
امریکی منصوبوں پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے شدید تحفظات برقرار ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مؤثر منصوبہ بندی، اسرائیلی فوج کے انخلا، اور وسیع پیمانے پر تعمیرِ نو کے بغیر، 2 سال کی تباہ کن جنگ کے بعد بین الاقوامی امن دستے کا غزہ کے ایک غیر یقینی صورتِ حال میں پھنس جانے کا خطرہ ہے ۔
امریکہ نے یورپی ممالک کو امن فورس کا بنیادی حصہ بنانے کی تجویز دی لیکن یورپی ممالک کی جانب سے فوج بھیجنے سے ہچکچاہٹ کے باعث یہ منصوبہ غیر حقیقی قرار پایا۔
ثالثوں نے خبردار کیا ہے کہ تقسیم شدہ غزہ میں ایک ایسی صورت حال پیدا ہو رہی ہے جو ‘نہ جنگ ہے نہ امن’، جہاں باقاعدہ اسرائیلی حملے ہوں گے ، قبضہ مزید مضبوط ہو جائے گا، فلسطینیوں کی اپنی حکمرانی نہیں ہوگی، اور فلسطینی گھروں اور کمیونٹیز کی محض محدود تعمیرِ نو ہو سکے گی۔
ایران میں خشک سالی کے دوران ہزاروں شہریوں کی مسجد میں بارش کیلئے دعائیں
تہران، 15 نومبر (یو این آئی)
شمالی تہران میں ہزاروں افراد نے مسجد میں جمع ہوکر بارش کے لیے دعائیں کیں، کیوں کہ ایران دہائیوں کی بدترین خشک سالی کا شکار ہے ۔
ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق مقامی حکام نے بتایا کہ دارالحکومت میں اس سال بارش کا ریکارڈ ایک صدی میں سب سے کم رہا ہے اور ایران کے نصف صوبوں میں مہینوں سے ایک قطرہ بھی بارش نہیں ہوئی۔
پانی کی کمی کے پیش نظر حکومت نے تہران کی ایک کروڑ کی آبادی کے لیے پانی کی سپلائی کو وقفے وقفے سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ استعمال محدود کیا جا سکے ۔
جمعہ کے روز مرد و خواتین ایرانی دارالحکومت کی امام زادہ صالح مسجد میں جمع ہوئے اور رب کے حضور بارش کے لیے خصوصی دعا کی۔
اسلامی روایت کے مطابق، خواتین حجاب پہن کر مردوں سے الگ جگہ پر نماز پڑھ رہی تھیں۔
تہران البرز پہاڑوں کی جنوبی ڈھلوانوں پر واقع ہے اور یہاں گرم و خشک موسم گرما کے بعد خزاں کی بارشیں اور سردیوں میں برفباری عام طور پر راحت پہنچاتی ہیں۔
پہاڑی چوٹیوں پر اس وقت تک عام طور پر برف جمی ہوتی ہے ، لیکن اس سال وہ بھی خشک ہیں۔
تہران ملک کا سب سے بڑا شہر ہے اور مقامی میڈیا کے مطابق اس کے باشندے روزانہ 30 لاکھ مکعب میٹر پانی استعمال کرتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا تھا کہ اگر سردیوں سے قبل بارش نہ ہوئی تو تہران کو خالی کرنا پڑسکتا ہے ، تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔
حکومت نے بعد میں وضاحت کی کہ پزشکیان صرف رہائشیوں کو صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرنا چاہتے تھے اور کوئی ٹھوس منصوبہ پیش نہیں کر رہے تھے ۔
حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کو پینے کا پانی فراہم کرنے والے 5 بڑے ڈیموں میں سے ایک خالی ہے اور دوسرا اپنی گنجائش کے 8 فیصد سے بھی کم پر ہے ۔










