سرینگر/۱۵؍نومبر
نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہفتہ کو بدگام اسمبلی ضمنی انتخاب میں پارٹی کی شکست پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس نتیجے کو ’ناکامی‘ کے بجائے ایک ’سبق‘سمجھا جانا چاہیے، اور پارٹی اپنی کمیوں پر کام کرے گی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ پارٹی کو اپنی شکست کی وجوہات پر غور کرنا چاہیے۔
حکمران جماعت کے سربراہ نے کہا ’’ہمیں خوش ہونا چاہیے؛ یہ ہمیں سبق دیتا ہے۔ ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے۔ ہار ہمیں سکھاتی ہے، اور جہاں کہیں کمیاں ہوں گی ہم انہیں بہتر کرنے کی کوشش کریں گے‘‘۔
ان کے یہ بیان اُس وقت سامنے آئے جب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے پہلی بار بڈگام میں تاریخی جیت درج کرتے ہوئے این سی امیدوار کو۴ہزار۴۷۸ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔
بڈگام کی یہ نشست طویل عرصے سے این سی کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی تھی، تاہم وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے اس حلقے کو خالی کر کے گاندربل برقرار رکھنے کے بعد ہونے والے ضمنی انتخاب میں یہ نشست پارٹی کے ہاتھ سے نکل گئی۔
ادھرجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر اور نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما عبدالرّحیم راتھر نے بھی ہفتہ کو کہا کہ بڈگام کی شکست کو وسیع سیاسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کے امیدوار کو ملنے والے ووٹ ’’صرف اس کے اپنے نہیں تھے‘‘۔
راتھر نے کہا، ’’یہ پی ڈی پی کا ووٹ نہیں ہے۔ یہ روح اللہ کا ووٹ ہے، مولوی عمران انصاری کا ووٹ ہے، اور امیدوار کے اپنے خاندان کا ووٹ ہے‘‘۔
اسمبلی اسپیکر کے مطابق ان رہنماؤں کی مشترکہ حمایت نے پی ڈی پی کی مجموعی ووٹ شماری میں پچھلے انتخابات کے مقابلے تقریباً۳۵۰۰ ووٹوں کا اضافہ کیا۔
راتھر نے بتایا کہ۲۰۲۴کے اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی نے اس حلقے میں تقریباً ۱۷ ہزار ووٹ حاصل کیے تھے، جبکہ اس بار یہ تعداد ۲۱ ہزار سے تجاوز کر گئی، جس کی وجہ ’’روح اللہ اور انصاری دونوں کے اپنے اپنے حمایتیوں کو ساتھ لانا‘‘ تھا۔
بڈگام میں این سی کی پہلی مرتبہ شکست پر بات کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ جمہوری فیصلوں کا احترام ضروری ہے۔ان کاکہنا تھا’’انتخابات میں کبھی آپ جیتتے ہیں، کبھی ہارتے ہیں۔ عوام کے فیصلے کو قبول کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔‘‘
اسمبلی اسپیکر نے یہ بھی کہا کہ اسپیکر کی حیثیت سے وہ فعال سیاست میں حصہ نہیں لیتے، تاہم ’’مالیاتی اور عددی نقطہ نظر‘‘ سے انتخابی رجحان پر تبصرہ کر سکتے ہیں۔
نوگام پولیس اسٹیشن دھماکے، جس میں نو افراد جاں بحق اور ۳۲ زخمی ہوئے، کے بارے میں راتھر نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا، ’’یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہیے اور اصل حقیقت تک پہنچنا چاہیے۔ جو ذمہ دار ہوں، انہیں قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔‘‘
راتھر نے لوگوں سے اپیل کی کہ دھماکے کی وجہ پر غیر ضروری قیاس آرائی نہ کریں اور امن و قانون کی پاسداری کریں۔ان کاکہنا تھا’’میری صرف یہ اپیل ہے کہ کسی کو بلاوجہ سزا نہ ملے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔‘‘
حکومت عوام کی توقعات پوری کر پائے گی یا نہیں، اس سوال پر راتھر نے مختصر جواب دیا ’’ہم کوشش کر رہے ہیں۔
(ندائے مشرق خبر)‘‘










