سرینگر/۱۵نومبر
نو افراد اُس دھماکے میں جاں بحق ہوئے جسے حکام نے حادثاتی قرار دیا ہے مگر اس کا تعلق حال ہی میں ہریانہ کے فریدآباد میں ایک بڑے دہشت گردی شکن آپریشن کے دوران ضبط شدہ بارودی مواد سے جوڑا گیا ہے۔ یہ دھماکہ جمعہ کی رات سرینگر کے مضافاتی علاقے نوگام پولیس اسٹیشن میں ہوا۔
جاں بحق ہونے والوں میں جموں و کشمیر پولیس کے اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایسن آئی اے ) کا ایک اہلکار، ایف ایس ایل ٹیم کے تین ارکان، کرائم سین کے دو فوٹوگرافر، مجسٹریٹ ٹیم کے دو ریونیو اہلکار اور ٹیم کے ساتھ وابستہ ایک درزی شامل ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ‘ نلن پربھات نے بتایا کہ دھماکہ اْس وقت ہوا جب فارنسک ماہرین فریدآباد سے برآمد بارودی مواد کا نمونہ نکال رہے تھے۔
یہ وہی بارودی مواد ہے جو تقریباً ۲۹۰۰ کلوگرام کی ضبطی کا حصہ تھا، جسے سکیورٹی ایجنسیوں نے ہریانہ کے فریدآباد میں ایک ’وائٹ کالر‘ دہشت گردی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے دوران برآمد کیا تھا۔ اسی نیٹ ورک سے دہلی کے حالیہ لال قلعہ دھماکے کے ملزم کا بھی تعلق پایا گیا۔
لال قلعہ دھماکہ، جس میں کم از کم ۱۰؍ افراد جاں بحق ہوئے، اس کیس سے منسلک ہے جو ۱۹؍ اکتوبر کو نوگام تھانے میں اْس وقت درج ہوا تھا جب جیشِ محمد کے ’’شاندار حملے‘‘ کی دھمکی والے پوسٹر برآمد ہوئے تھے۔
انہی پوسٹروں کی تفتیش نے جموں و کشمیر پولیس کو جیشِ محمد کے ایک بین الاضلاعی ماڈیول تک پہنچایا، جو ہریانہ کے فریدآباد میں سرگرم تھا۔ دو دیہات سے تقریباً۳ہزار کلوگرام آتش گیر مواد، کیمیکلز اور ری ایجنٹس ضبط کیے گئے۔ اس کارروائی میں دو مولویوں سمیت کئی ڈاکٹروں کو بھی گرفتار کیا گیا‘جن میں زیادہ تر فریدآباد کی الفلاح یونیورسٹی سے وابستہ تھے۔ گرفتاریوں میں شوپیاں کے مولوی عرفان واغے بھی شامل تھے۔
پولیس نے بتایا کہ پوسٹروں کی تحقیقات کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج سے تین سابق پتھراؤ کرنے والے نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا جن کے بیانات سے عرفان وگے کا نام سامنے آیا۔ عرفان‘چھانہ پورہ مسجد سرینگر کا امام، جیشِ محمد اور انصار غزوۃ الہند کے شہری سپورٹ سیل کے بڑے نیٹ ورک سے جڑا ہوا پایا گیا۔
تقریباً ۳ہزار کلو میں سے ۲۵۶۳ کلو بارودی مواد ۱۰ نومبر کی صبح فریدآباد کی ڈھیرا کالونی میں واقع الفلاح مسجد کے امام حفیظ محمد اسحاق کے گھر سے برآمد کیا گیا۔ بعد کی چھاپہ مار کارروائیوں میں مزید۳۵۸کلو دھماکہ خیز مواد، ڈیٹونیٹر اور ٹائمر بھی ضبط ہوئے۔
اس کے بعد پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کیا، جن میں عارف نثار ڈار عرف ساحل، یاسر الاشرف، مقصود احمد ڈار عرف شاہد‘ تینوں نوگام سے، زمیر احمد آہنگر عرف متلا شاہ گاندربل سے، ڈاکٹر مزمل احمد گنائی عرف مصیب کول، پلوامہ سے، اور ڈاکٹر عادل راتھر وانپورہ، کولگام سے شامل ہیں۔ عرفان واغے کے گھر سے جیشِ محمد کے پوسٹر بھی برآمد ہوئے۔
ان کارروائیوں کے دوران الفلاح میڈیکل کالج کے میڈیکل پریکٹیشنر ڈاکٹر عمر النبی ‘ جو اسی ماڈیول کا حصہ تھے‘ نے ۱۰ نومبر کی شام دہلی کے لال قلعہ کے نزدیک ٹریفک میں اپنی گاڑی میں دھماکہ کیا۔ اس دھماکے کے لیے بھی وہی مواد استعمال ہوا جو فریدآباد سے برآمد کیا گیا تھا۔
ضبط شدہ مواد فارنسک جانچ اور نمونہ کشی کے لیے قانونی طور پر نوگام پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا تھا، جہاں بلند مقدار ہونے کی وجہ سے ایف ایس ایل ٹیم کئی دن سے نمونے لینے میں مصروف تھی۔ اس عمل کے دوران مواد کی انتہائی حساس نوعیت کے سبب حادثاتی دھماکہ ہوا۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










