تو صاحب اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیرا علیٰ عمرعبداللہ نے کہا ہے کہ بڈگام میں آغا روح اللہ نے سیاسی خودکشی کی ہے … نیشنل کانفرنس سے ناراض ہو کر … ضمنی الیکشن میں پارٹی کے امیدوار کے حق میں انتخابی مہم نہ چلا کر … روح اللہ نے خود کشی… سیاسی خود کشی کی ہے۔ اس لئے کی ہے کیونکہ اب جو اس حلقے کا ممبر اسمبلی بن گیا ہے … اسے وہاں سے آسانی سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا ہے… ایسا ہم نہیں بلکہ یہ اپنے وزیر اعلیٰ کے الفاظ ہیں … اب روح اللہ نے خود کشی کی ہے یا نہیں ‘ یہ تو ہمیں معلوم نہیں ہے… کہ ہمیں جو معلوم ہے وہ یہ ہے کہ روح اللہ کو ناراض ہی رکھنا ‘ ان سے دوری بنائے رکھنا این سی اور وزیرا علیٰ کی سیاسی خود کشی ثابت ہو ئی ہے… ضمنی الیکشن میں ثابت ہوئی ہے… سو روح اللہ سے پہلے وزیر اعلیٰ اور این سی کو اس بات کا جواب تلاش کرنا پڑے گا کہ… کہ انہوں نے یہ خود کشی کیوں کی … کیوں انہوں روح اللہ کو ناراض ہی رہنے دیا ‘ ان کی ناراضگی دور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی… بالکل بھی نہیں کی ۔ وزیر اعلیٰ نے ہار کے بعد جو باتیں کیں… اور ہول سیل میں کیں‘وہ اگر کسی بات کی چغلی کھا رہی تھیں تو… تو اس ایک بات کی کھا رہی تھیں کہ… کہ وزیرا علیٰ اعتراف کررہے ہیں… کہ…کہ انہوں نے ‘ ان کی جماعت نے روح اللہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے الیکشن میں شکست کا سامنا کیا…اس ضمن میںان جناب کا یہ کہنا کافی تھا کہ بڈگام میں لوگ کام پر ووٹ نہیں دیتے ہیں… بلکہ وہ کسی فرد کے پیچھے چلتے ہیں اور… اور ووٹ ڈالتے ہیں… ظاہر ہے کہ این سی کیلئے وہ فرد وزیر اعلیٰ تھے اور نہ اس کے امیدوار آغا محمود … ان کے وہ فرد آغا روح اللہ تھے … گزشتہ سال اسمبلی الیکشن میں بھی تھے اور اس سے پہلے لوک سبھا الیکشن میں بھی… اس فرد کے پیچھے بڈگام کے لوگ چل رہے تھے… اور وزیرا علیٰ او ر ان کی جماعت کو جتا رہے تھے… اور… اور اسی فرد کے اٹھائے گئے اشوز کو ایڈریس نہ کرنا… ان سے دوری کو بنائے رکھنا… ان کو اعتماد میں نہ لینا یقینا خودکشی تھی… سیاسی خود کشی … لیکن روح اللہ کی نہیںبلکہ وزیرا علیٰ اور این سی کی تھی… این سی کی ہے ۔ ہے نا؟



