خرطوم، 4 نومبر (یواین آئی/ژنہوا) وسطی اور مغربی سوڈان میں نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آرایس ایف) کی طرف سے کیے گئے دو الگ الگ ڈرون حملوں میں پیر کو کم از کم 20 افراد ہلاک اور 34 دیگر زخمی ہو گئے ۔ یہ اطلاع رضاکار گروپوں نے دی۔
رضاکار گروپوں کے مطابق، حملوں میں وسطی شمالی کردفان ریاست میں ایک شہری اجتماع اور مغربی شمالی دارفور ریاست میں بچوں کے اسپتال کو نشانہ بنایا گیا۔
رضاکار گروپ نارتھ کردفان مزاحمتی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا، "آر ایس ایف نے پیر کو شمالی کردفان کے دارالحکومت العبید سے تقریباً 15 کلومیٹر مشرق میں اللولیب کے علاقے کو ایک ڈرون حملے کے ذریعے نشانہ بنایا، جس میں 13 شہری ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہوئے ، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے ۔”
علاقے کے ایک عینی شاہد نے ژنہوا کو بتایا کہ "حملے میں ایک بڑے شہری اجتماع کو نشانہ بنایا گیا جو اظہار تعزیت کے لیے منعقد ہوا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ۔”
ایک الگ واقعے میں، ایک اور رضاکار گروپ، سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے بتایا کہ آرایس ایف کے ایک ڈرون نے شمالی دارفور کے کورنوئی علاقے میں بچوں کے ایک اسپتال کو نشانہ بنایا، جس سے متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔
گروپ نے کہا کہ خواتین اور بچوں سمیت سات شہری ہلاک اور پانچ دیگر شدید زخمی ہوئے ۔ گروپ نے مزید بتایا کہ حملے کے وقت دو بچے اسپتال میں زیر علاج تھے ۔
ڈاکٹرز نیٹ ورک نے مکمل طورپر اس حملے کے لیے آرایس ایف کو ذمہ دار ٹھہرایا اور عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ حملوں کی مذمت کریں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کریں۔
سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور آرایس ایف کے درمیان حالیہ ہفتوں میں دارفور اور کردفان ریاستوں میں لڑائی میں شدت آئی ہے ، کیونکہ آرایس ایف نے شمالی کردفان میں بارہ اور شمالی دارفور کے دارالحکومت الفشر سمیت متعدد اسٹریٹجک شہروں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے ۔ آرایس ایف نے ابھی تک مبینہ حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے ۔
سوڈان ایس اے ایف اور آرایس ایف کے درمیان اپریل 2023 میں شروع ہونے والے تباہ کن تنازعہ میں الجھ گیا ہے ۔ جنگ نے ہزاروں افراد کو ہلاک اور لاکھوں کو بے گھر کر دیا ہے ، جس سے ملک کو ایک بڑے انسانی بحران کا سامنا ہے ۔










