جموں/یکم نومبر
منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کیلئے ضلع مجسٹریٹ جموں نے ایک سخت حکم نامہ جاری کرتے ہوئے تمام کوریئر، لاجسٹک اور پارسل کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر سخت جانچ اور تصدیقی اقدامات نافذ کریں تاکہ ان کی خدمات ڈرگ ٹرانسپورٹیشن کے لیے استعمال نہ ہوں۔
یہ حکم بھارتیہ شہری سلامتی سنہیتا۲۰۲۳کی دفعہ ۱۶۳کے تحت جاری کیا گیا ہے ، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کئی کوریئر کمپنیوں اور پارسل سروسز کا غلط استعمال نشہ آور مادوں اور ممنوعہ اشیاء کی ترسیل کے لیے کیا جا رہا ہے ۔
آرڈر میں کہا گیا ہے کہ ایسے تمام افعال منشیات و نفسیاتی مادے این ڈی پی ایسایکٹ۱۹۸۵کے تحت سنگین جرم ہیں، جن کی سزامتعلقہ دفعات کے تحت دی جا سکتی ہے ۔ خاص طور پر دفعہ ۲۵کے تحت یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی مالک یا ذمہ دار شخص جان بوجھ کر اپنی سروس یا گاڑی کو منشیات کی ترسیل کیلئے استعمال ہونے دے ، تو اسے اسی طرح سزا دی جائے گی جیسے وہ خود اس جرم میں ملوث ہو۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ این ڈی پی ایس رولز۱۹۸۵کے رول۵۲کے مطابق منشیات کی ترسیل بذریعہ ڈاک یا کوریئر سخت طور پر ریگولیٹ کی گئی ہے ، جس کے لیے بھیجنے والے اور وصول کنندہ دونوں کی تفصیلات، لائسنس نمبر اور ریکارڈ مینٹیننس لازمی ہے ۔
ضلع مجسٹریٹ نے اپنے حکم میں عدالتوں کے اہم فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ کے مقدمے میں واضح کیا گیا تھا کہ کوریئر ایجنسیاں قانونی طور پر پابند ہیں کہ وہ مشکوک پارسلز کی نشاندہی کریں اور ان کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ بصورت دیگر، انہیں بھی قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے ۔
اسی طرح، پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اگر کوریئر کمپنیوں کی خدمات منشیات کی ترسیل کیلئے استعمال ہوں تو ان کے مالکان، مینیجرز اور ڈائریکٹرز کو بھی این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، اور کمپنیوں کو ڈرگ ڈیٹیکشن میکانزم یا کٹس استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
حکام نے متنبہ کیا ہے کہ اگر کسی کوریئر یا لاجسٹک سروس کو منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتے پایا گیا، تو اس کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی










