سرینگر/۲۸؍اکتوبر
جموںکشمیر حکومت نے منگل کے روز بتایا کہ جموں وکشمیر میں گذشتہ دو برسوں کے دوران سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تشہیری سرگرمیوں پر زائد از ۵سو کروڑ رویے خرچ کئے گئے جس کے نتیجے میں ریکارڈ تعداد میں سیاحوں نے جموں وکشمیر کی سیر کی۔
ایک سوال کے جواب میں حکومت نے منگل کے روز اسمبلی میں کہا کہ مالی سال۲۰۲۳۔۲۰۲۴میں۷۵ء۲۵۳کروڑ روپے جبکہ مالی سال۲۰۲۴۔۲۰۲۵میں۴۲ء۲۶۸کروڑ روپیے سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کیلئے کیپکس بجٹ کے تحت مختص تھے ۔
حکومت نے کہا’’اس عرصے کے دوران کوئی مرکزی معاونت یافتہ اسکیم نافذ نہیں کی گئی‘‘۔
حکومت نے بتایا کہ اشتہارات اور تشہر کیلئے۵۰ء۵۰کروڑ روپے مختص کئے گئے جن میں سے ۲۷ء۴۲کروڑ روپے خرچ کئے گئے ۔
جواب میں کہا گیا کہ ان مہموں کے نتیجے میں جموں وکشمیر میں سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا اور کئی نئے سیاحتی مقامات نقشے پر ابھر کر سامنے آئے ۔
حکومت کا کہنا تھا’’گذشتہ دو برسوں کے دوران۴کروڑ سے زیادہ سیاحوں نے جموں کشمیر کی سیر کی اور اس دوران غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں بھی اضافہ درج ہوا جو۲۰۲۱۔۲۰۲۲میں۱۹ہزار سے بڑھ کر۲۰۲۳۔۲۰۲۲میں ۴۷ہزار تک پپہنچ گئی۔
عمر عبداللہ جن کے پاس سیاحت کا قملدان بھی ہے ، نے کہا کہ گریز، بنگس، دودھ پتھری، ایتھم اور بسولی جیسے غیر معروف مقامات محکمے کی تشہیری مہموں کے بدولت مقبول ہوگئے ۔ انہوں نے کہا’’جموں وکشمیر ایک اہم فلم شوٹنگ مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے جہاں لیو اور ڈنکی سمیت کئی فلمیں فلمائی گئیں۔یو این آئی‘‘










