سرینگر/۶؍اکتوبر
سپریم کورٹ میں آج صبح عدالتی کارروائی کے دوران ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جس میں ایک معمر وکیل نے مبینہ طور پر چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) بی آرگوائی پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔
حملہ آور کمرہ عدالت کے اندر نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا، جسے سکیورٹی اہلکاروں نے جلدی سے قابو کر لیا اور باہر لے گئے ۔ اس خلل کی وجہ سے کارروائی میں تھوڑی دیر رکاوٹ آئی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اس شخص نے کمرہ عدالت سے باہر نکالتے وقت یہ نعرہ لگایا ’سناتن دھرم کا اپمان، نہیں سہے گا ہندوستان‘(ہندوستان سناتن دھرم کی بے عزتی برداشت نہیں کرے گا)۔ کچھ عینی شاہدین نے بتایا کہ اس نے جوتا پھینکنے کی کوشش کی، جبکہ دوسروں نے دعوی کیا کہ اس کے ہاتھ میں پیپر رول تھا۔
چیف جسٹس بی آر گوائی نے بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس غیر معمولی خلل اندازی کے فوراً بعد سیشن دوبارہ شروع کیا۔ زیر غور مقدمہ کے دوسرے وکیل کو دلائل جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے ، انہوں نے سکون سے یہ تبصرہ کیا ’’فکرمند نہ ہو، ہم اس واقعہ سے پریشان نہیں ہیں‘‘۔
واقعے کے بعد کمرہ عدالت کے اطراف میں سکیورٹی سخت کردی گئی۔
اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے آج شام چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوائی سے بات کی اور سپریم کورٹ کے احاطے میں آج پیش آئے ان پر حملے کی شدید مذمت کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ حملہ انتہائی قابلِ مذمت ہے اور ’’ہر ہندوستانی کو اس نے غصہ دلایا ہے‘‘۔
وزیر اعظم نے ایکس پر لکھا، ’’چیف جسٹس آف انڈیا، جسٹس بی آر گوائی جی سے بات کی۔ آج سپریم کورٹ کے احاطے میں ان پر ہوا حملہ ہر ہندوستانی کو مشتعل کر گیا ہے۔ ہمارے سماج میں اس طرح کے قابلِ نفرت واقعات کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ عمل سراسر قابلِ مذمت ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ جسٹس گوائی کے اس ضبط و سکون کی قدردانی کرتے ہیں جو انہوں نے ’’ایسی صورتحال میں بھی برقرار رکھا‘‘۔انہوں نے مزید کہا، ’’یہ ان کے انصاف کے اقدار اور ہمارے آئین کی روح کو مضبوط بنانے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
عینی شاہدین کے مطابق، مذکورہ شخص ‘ جس کی شناخت ۷۱ سالہ راکیش کشور کے طور پر ہوئی ہے‘ بنچ کے قریب آیا، اپنا جوتا اتارا اور ججوں کی جانب پھینک دیا۔ اسے فوراً باہر لے جایا گیا۔
جب اسے باہر لے جایا جا رہا تھا تو وہ چیختا ہوا سنا گیا، ’’سناتن کا اپمان نہیں سہیں گے‘‘۔چیف جسٹس نے حکام کو ہدایت دی کہ کشور کو صرف انتباہ دے کر چھوڑ دیا جائے۔
دہلی پولیس نے وکیل سے سپریم کورٹ کے اندر تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی اور چونکہ کوئی باضابطہ شکایت درج نہیں کی گئی تھی، اسے جانے دیا گیا۔ پولیس نے بعد میں اس کے جوتے بھی واپس کر دیے۔
ایک رپورٹ کے مطابق، پولیس سپریم کورٹ کے رجسٹرار جنرل کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ وکیل کے اس عمل کے پسِ پشت محرکات سے متعلق تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس واقعے کو ’بدقسمت اور قابلِ مذمت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ غلط معلومات اور سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا، ’’آج چیف جسٹس کی عدالت میں پیش آیا واقعہ افسوسناک ہے اور اس کی سخت مذمت ہونی چاہئے۔ یہ سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی غلط معلومات کا نتیجہ ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا نے اس موقع پر انتہائی بردباری کا مظاہرہ کیا… میری بس یہ خواہش ہے کہ اس بردباری کو کوئی ادارے کی کمزوری نہ سمجھے۔‘‘
مہتا نے مزید کہا، ’’میں نے خود دیکھا ہے کہ چیف جسٹس ہر مذہب کے مذہبی مقامات پر احترام کے ساتھ حاضری دیتے ہیں۔ انہوں نے خود بھی اس موقف کی وضاحت کی ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ ایک شخص کو آج کے اس عمل پر کس چیز نے اکسایا۔ بظاہر یہ کسی توجہ کے بھوکے شخص کا سستی شہرت حاصل کرنے کا عمل لگتا ہے۔‘‘
سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے اس واقعے کو ’’پورے ادارے پر حملہ‘‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا ’’میں اس واقعے کی عینی شاہد نہیں ہوں، جو کچھ جانتی ہوں وہ میڈیا کی رپورٹوں سے۔ اس معاملے کی تحقیقات ضروری ہیں۔ میں اسے صرف چیف جسٹس پر نہیں بلکہ ادارے کی ساکھ پر حملہ سمجھتی ہوں۔‘‘
جے سنگھ نے مزید کہا ’’میں اسے چیف جسٹس کے خلاف ذات پات پر مبنی تبصرہ بھی سمجھتی ہوں‘ اس پر سپریم کورٹ کی طرف سے قانونی ردعمل ضروری ہے۔‘‘
یہ واقعہ ممکنہ طور پر اس وکیل کی اْس ناراضگی سے جڑا ہو سکتا ہے جو پچھلے ماہ چیف جسٹس کی اْن ریمارکس پر ظاہر کی گئی تھی جو کھجوراہو میں وشنو کے بت کی بحالی سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کے دوران دیے گئے تھے۔
چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں مدھیہ پردیش کے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کھجوراہو کے جاوری مندر میں سات فٹ لمبے بھگوان وشنو کے بت کو دوبارہ نصب کرنے کی ہدایت دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
چیف جسٹس نے اس عرضی کو ’’پبلسٹی انٹرسٹ لِٹیگیشن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا، ’’یہ خالصتاً تشہیر کے لیے دائر کی گئی عرضی ہے… جا کر خود دیوتا سے کہیے کچھ کریں۔ اگر آپ بھگوان وشنو کے بڑے عقیدت مند ہیں تو دعا کیجیے، دھیان کیجیے۔‘‘
سوشل میڈیا پر ان کے ریمارکس پر ہونے والی تنقید کے بعد چیف جسٹس نے وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’’تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں‘‘۔انہوں نے۱۸ ستمبر کو کہا تھا، ’’کسی نے مجھ سے کہا کہ میرے ریمارکس سوشل میڈیا پر غلط طور پر پیش کیے جا رہے ہیں… میں تمام مذاہب کا احترام کرتا ہوں۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)‘‘










