نئی دہلی/۶؍اکتوبر
سپریم کورٹ نے لداخ کے سماجی کارکن سونم وانگچک کی قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے ) کے تحت گرفتاری کو چیلنج کرنے والی عرضی پر پیر کو مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔
جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے وانگچک کی اہلیہ‘ گیتانجلی جے انگمو کی ہیبیس کارپس عرضی پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔
بنچ نے انگمو کی درخواست پر ان کے وکیل ‘کپل سبل اور مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی طرف سے مختصر دلائل سننے کے بعد یہ حکم دیا۔
بنچ نے کہا’’نوٹس جاری کریں‘‘۔قبل ازیں سینئر ایڈوکیٹ سبل نے بنچ کو بتایا کہ درخواست ماہر ماحولیات وانگچک کی حراست پر تنقید کرتی ہے ۔بنچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم حراست کے خلاف ہیں۔
اس کے جواب میں، سالیسٹر جنرل مہتا نے ، مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ وانگچک کو ان کی حراست کی وجہ سے آگاہ کر دیا گیا ہے ۔
انگمو نے قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے ) کے تحت اپنے شوہر کی حراست کو چیلنج کیا ہے ۔انہوں نے اس معاملے میں جمعرات کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
آئین کے آرٹیکل۳۲کے تحت دائر کی گئی ہیبیس کارپس درخواست میں انہوں نے اپنے شوہر کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا ہے ۔
درخواست میں، انہوں نے اپنے شوہر پر این ایس اے کے نفاذ پر سوال اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ ان کی گرفتاری ’غیر قانونی اور قانون کی خلاف ورزی‘ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ گرفتاری کے بعد سے ان کے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ وانگچک کو گرفتاری کے بعد سے راجستھان کی جودھ پور سنٹرل جیل میں رکھا گیا ہے ۔انہیں ۱۶ستمبر کو لداخ میں علیحدہ ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے کے احتجاج کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران پھوٹنے والے تشدد میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ایجنسیز










