سرینگر/۶؍اکتوبر
وادی کے سیاحتی مقامات گلمرگ، سونہ مرگ کے علاوہ گریز اور دیگر پہاڑی علاقوں میں تازی برف باری ہوئی جبکہ سری نگر سمیت دیگر میدانی علاقوں میں رک رک بارشوں کا سلسلہ جاری ہے ۔
اطلاعات کے مطابق گلمرگ کے بالائی علاقہ افروٹ کے ساتھ ساتھ سنتھن ٹاپ،زوجیلا پاس، گمری، منی مرگ اور راز دان پاس نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہی برف کی سفید چادر اوڑھ لی ہے ۔
محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان علاقوں میں کہیں کہیں ہلکی برف باری تو کہیں کہیں شدید بارشوں کا سلسلہ رک رک کر جاری ہے ۔تاہم ذرائع کے مطابق بانڈی پورہ، گریز روڈ پر خراب موسمی صورتحال کے باوجود ٹریفک کی نقل و حمل جاری ہے ۔
سرینگر سمیت وادی کے میدانی علاقوں میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری ہے ۔
ادھر موسم خراب ہونے کے ساتھ وادی میں درجہ حرارت میں نمایاں گراوٹ درج ہوئی ہے جس نے لوگوں کو گرم لباس پہننے پر مجبور کر دیا ہے ۔
سرینگر میں دن کا درجہ حرارت۵ء۱۲ ڈگری سینٹی گریڈ درج کیا گیا جو کہ معمول سے۱۳ ڈگری کم ہے۔قاضی گنڈ میں۵ء۱۳ ڈگری سینٹی گریڈ( معمول سے ۶ء۱۰ڈگری کم )پہلگام میں۲ء۹ ڈگری سینٹی گریڈ (۲ء۱۳ ڈگری معمول سے کم)،کپواڑہ میں ۸ء۱۰ ڈگری سینٹی گریڈ (۰ء۱۶ڈگری معمول سے کم)کوکرناگ میں۱ء۱۲ ڈگری (۷ء۱۱ڈگری معمول سے کم)جبکہ گلمرگ میں محض۴ء۴ ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا جو معمول سے ۱ء۱۲ ڈگری سینٹی گریڈ کم ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ۵؍اکتوبر کی شام ۵سے۷؍اکتوبر کی دوپہر تک جموں صوبے کے کئی اضلاع میں شدید بارشوں کا امکان ہے جبکہ اس دوران کشمیر خاص کر جنوبی کشمیر میں درمیانی درجے سے شدید بارشیں متوقع ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس دوران جنوبی کشمیر، پیر پنچال اور چناب وادی کے پہاڑی علاقوں میں درمیانی سے بھاری برف باری متوقع ہے ۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ بعد میں۸سے۱۷؍اکتوبر تک موسم ایک بار پھر خشک رہنے کا امکان ہے ۔محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ اس دوران کہیں کہیں لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوسکتی ہے اور چٹانیں کھسکنے کے بھی خطرات ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اس دوران وادی میں دن کا درجہ حرارت معمول سے۲سے۳ڈگری سینٹی زیادہ ریکارڈ ہوسکتا ہے جبکہ رات کے درجہ حرارت میں نمایاں گراوٹ درج ہوسکتی ہے ۔
ترجمان کے مطابق جموں وکشمیر میں اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید برف و باراں کا امکان ہے ۔
محکمے کی ایڈوائزری کے مطابق اس دوران کچھ مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور چٹانیں کھسکنے کے بھی خطرات ہیں جبکہ کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔
کسانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ۶سے ۷؍اکتوبر تک کاشتکاری سے متعلق تمام سرگرمیوں کو معطل رکھیں۔
موسمیات محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جموں وکشمیر میں۶؍اکتوبر کو میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشیں جبکہ پہاڑی علاقوں میں برف باری ہونے کا امکان ہے اور اس دوران جموں صوبے کے کچھ علاقوں میں شدید بارشیں ہوسکتی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ۷؍اکتوبر کی دوپہر تک بھی میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشیں جبکہ پہاڑی علاقوں میں برف باری کا امکان ہے جس کے بعد موسم میں بتدریج بہتری متوقع ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ۸ ؍اکتوبر کو بھی کہیں کہیں ہلکی بارشوں کے مختصر مرحلوں کا امکان ہے ۔ترجمان نے بتایا کہ بعد ازاں ۹؍سے ۱۶؍اکتوبر تک جموں وکشمیر میں موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے ۔
محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ اس دوران کچھ مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور چٹانیں کھسکنے کے بھی خطرات ہیں جبکہ کہیں کہیں گرج چمک کے تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔
کسانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ۶سے۷؍اکتوبر تک کاشتکاری سے متعلق تمام سرگرمیوں کو معطل رکھیں۔انہوں نے کہا کہ اس دوران جموں صوبے میں کہیں کہیں شدید جبکہ کشمیر میں کہیں کہیں درمیانی سے شدید بارشوں کا امکان ہے ۔
ایڈوائزری کے مطابق کشمیر، پیر پنچال اور چناب وادی کے بالائی علاقوں میہں ہلکی سے درمیانی درجے کی برف باری جبکہ جنوبی کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں درمیانی سے بھاری برف باری متوقع ہے ۔
ادھر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے موسمی پیش گوئی کے پیش نظر گذشتہ روز ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران تیاریوں کا جائزہ لیا۔
عمرعبداللہ نے متعلقہ محکموں کو سختی سے ہدایت دی کہ وہ ہمہ وقت الرٹ رہیں اور عوام، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام لازمی خدمات جیسے بجلی، پانی اور سڑکوں کو فعال رکھنے کیلئے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
حکام کے مطابق انتظامیہ نے ممکنہ بارش و برفباری کے دوران ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹیمیں تشکیل دی ہیں، اور تمام ڈویژنل و ضلعی افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عوامی سہولیات کو برقرار رکھنے کے لیے تیار رہیں۔ یو این آئی










