شملا، 30 ستمبر (یو این آئی) ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھووندَر سنگھ سکّھو نے کہا ہے کہ نہ انہوں نے اور نہ ہی ان کے کابینہ کے ساتھیوں نے بیرون ملک سفر کے لیے سرکاری فنڈ استعمال کیا۔
یہ بیان صحت محکمے کے لندن اور فرانس کے دورے کے دوران پیدا ہونے والے تنازعے کے دوران آیاہے ، جس میں وزیر صحت دھنی رام شاندل کے بیٹے بھی شامل تھے ۔ وزیر اعلیٰ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "نہ میں اور نہ ہی میرے وزارتی ساتھی سرکاری فنڈ پر بیرون ملک گئے ۔ میں نے یہ سفر اپنے پیسے سے کیا۔”
سکّھو نے واضح کیا کہ وزیر اور اہلکاروں کا منصوبہ بند بیرون ملک دورہ سرکاری فنڈ سے نہیں بلکہ صحت مشن منصوبوں کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی بینک، جرمنی اور جاپان انٹرنیشنل کورپریشن ایجنسی (جے آئی سی اے ) جیسی بین الاقوامی مالی معاونت فراہم کرنے والی ایجنسیاں عام طور پر ایسے دورے کراتی ہیں اور اس کے لیے اپنے بجٹ کا تقریباً 10 فیصد مختص کرتی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صحت وزیر اور ان کے بیٹے "بیرون ملک جانے کے خواہش مند نہیں تھے ” اور یہ دورہ مکمل طور پر پیشہ ورانہ نوعیت کا تھا۔ انہوں نے بی جے پی پراس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگایا۔ سکّھو نے ہماچل کے صحت شعبے میں بین الاقوامی معیار قائم کرنے کے لیے تجرباتی دوروں کی اہمیت پر زور دیا۔








