بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

کشمیرمیںاخروٹ اتارنے کا سیزن مزدوروں کیلئے جان لیوا ثابت ہو رہا ہے

رواں ماہ کے پہلے دو ہفتوں میں ۴ مزدوروں کی حادثاتی موت ‘درختوں سے اخروٹ توڑنے کی جدید تکنیک ابھی کشمیر نہیں پہنچی‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-09-19
in اہم ترین, کاروبار
A A
کشمیرمیںاخروٹ اتارنے کا سیزن مزدوروں کیلئے جان لیوا ثابت ہو رہا ہے
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

’۱۰۰روزہ انسدادِ منشیات مہم محض آغاز ‘

مسلسل بارشیں:بیروہ میں میونسپل شاپنگ کمپلیکس سیلابی ریلے کی نذر

سرینگر/۱۸ستمبر
وادی کشمیر میں گرچہ اخروٹ اتارنے کا سیزن مزدوروں کی ایک اچھی تعداد کو اخراجات خانہ کا بوجھ ہلکا کرنے میں کافی ممد و مدد گار ثابت ہوتا ہے لیکن یہ سیزن کئی گھرانوں کے لئے باعث مصیبت بھی بن جاتا ہے کیونکہ ہر سال اس سیزن کے دوران کئی مزدور اخروٹ درختوں سے گر کر یا تو لقمہ اجل بن جاتے ہیں یا عمر بھر کے لئے ناخیز ہو کر گھر والوں کے نحیف و کمزور کاندھوں پر ہی بھاری بھر کم بوجھ بن جاتے ہیں۔
وادی میں اخروٹ کے درختوں سے گر کر مزدوروں کے فوت ہونے یا جسمانی طور معذور ہونے کا سلسلہ امسال بھی جاری ہے اور ماہ رواں کے دوران ہی اب تک مختلف علاقوں میں چار افراد کی موت واقع ہوئی ہے ۔
محکمہ باغبانی کسانوں کو پیدوار بڑھانے اور اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے چھوٹے قد کے اخروٹ درخت فراہم کر رہا ہے ۔
اخروٹ کے درختوں سے اخروٹ اتارنے کا کام باقی میوہ درختوں سے میوہ اتارنے کے مقابلے جوکھم بھرا کام ہے جس میں اس کام کے کرنے والے کو جان گنوانے کا خطرہ ہر آن لگا رہتا ہے ۔
اخروٹ کے درخت دیگر پھل کے درختوں جیسے سیب، ناشپاتی، انار، وغیرہ سے قد و قامت میں بڑے ہوتے ہیں اور ان سے اخروٹ اتارنے کا عمل بھی مذکورہ پھل اتارنے کے کاموں سے بھی مختلف ہے ۔
سیب، ناشپاتی وغیرہ جیسے درختوں سے ایک عام مزدور بھی میوے اتار سکتا ہے اور ان درختوں پر چڑھ کر گرنے کا بھی کوئی خاص خطرہ لاحق نہیں ہوتا ہے لیکن اخروٹ کے درختوں سے اخروٹ اتارنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے ۔
اخروٹ اتارنے والا مزدور ایک لمبا سا ڈندا اٹھائے درخت کی ایک مضبوط شاخ پر بیٹھ کر زور زور سے باقی شاخوں کو مارتا ہے جس سے ان پر لگے اخروٹ نیچے گر جاتے ہیں اور اس دوران ایسا بھی ہوتا ہے کہ توزان یا توجہ کھو جانے کے ساتھ ہی مزدور خود بھی اخروٹوں کے ساتھ نیچے گر جاتا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ ہر سال اس سیزن کے دوران کئی مزدور یا تو لقمہ اجل بن جاتے ہیں یا عمر بھر کے لئے معذور ہو کر کچھ کمانے سے رہ جاتے ہیں۔
رواں سیزن کے دوران بھی وادی کے مختلف علاقوں میں کئی مزدور اخروٹ اتارنے کے دوران گر کر یا تو ابدی نیند سو گئے یا ہسپتالوں میں پڑے ہیں اور کچھ کے تو مکمل ٹھیک ہونے کے امکانات ہیں جبکہ بعض عمر بھر کے لئے معذور ہوسکتے ہیں۔
ماہ ستمبر میں اب تک چار افراد اخروٹ اتارنے کے دوران درختوں سے گر کر لقمہ اجل بن گئے ۔
اننت ناگ کے اچھہ بل علاقے میں۷ستمبر کو محمد رفیق ولد عبد العزیز نامی ایک مزدور کی اخروٹ درخت سے گر کرموت واقع ہوئی جبکہ ۱۴ستمبر کو کپوارہ کے درگمولہ میں محمد اکبر ولد غلام نبی اور ۱۶ستمبر کو ترال میں مختار احمد ولد عبدالرشید نامی ایک مزدور اس نوعیت کے واقعوں میں فوت ہوگئے ۔
وسطی ضلع بڈگام میں بھی ماہ ستمبر میں ہی ایک مزدور کی اخروٹ درخت سے گر کر بر سر موقع ہی موت واقع ہوئی۔
جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے رہامہ سے تعلق رکھنے والے ایک بیوپاری طارق احمد نے یو این آئی کو بتایا’’اخروٹ کے درختوں کا قد چونکہ بڑا ہوتا ہے لہذا اس میں مزدور کا گر کر لقمہ اجل ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے ‘‘۔انہوں نے کہا’’اس خطرے کی وجہ سے اس قسم کے مزدوروں کا ملنا ہر گذرتے برس کے ساتھ مشکل سے مشکل تر ہو رہا ہے گرچہ ان کی مزدوری باقی مزدوروں سے دوگنا ہے اور وہ اچھی خاصی کمائی بھی کرتے ہیں‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’میں ایک درخت سے اخروٹ اتارنے کے لئے ایک مزدور کو ایک ہزار روپے دیتا ہوں‘‘۔
بیوپاری نے کہا’’اس کام کو انجام دینے کے لئے کوئی ٹیکنالوجی بھی دستیاب نہیں ہے جس سے یہ کام انجام دیا جاتا تو انسانی جانوں کا زیاں نہ ہوتا تاہم محکمہ باغبانی چھوٹے قد کے درخت فراہم کر رہا ہے جس سے اس خطرے سے بچا جا سکتا ہے ‘‘۔
اخروٹ صنعت کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا’’یہ ایک فائدہ بخش صنعت ہے ، اخروٹ کی مانگ ہمیشہ رہتی ہے اور دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے خراب ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں‘‘۔
ان کا کہنا تھا کہ امسال پیدا وار کم ہے لیکن مانگ اچھی ہے اور کاشتکار بھی اور بیوپاری بھی اس کے کاروبار سے اچھا روز گار کما سکتے ہیں۔
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے علی محمد نامی ایک بیوپاری نے بتایا’’ہم یہ کام کئی دہائیوں سے کر رہے ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ اچھی طرح سے زندگی گذر بسر کر رہے ہیں‘‘۔
علی محمد نے کہا’’محکمہ باغبانی نے اس صنعت کے فروغ کے لئے کئی اسکیمیں شروع کی ہیں جن سے کاشتکار فائدہ اٹھا رہے ہیں ، نئی اقسام کے بائی برڈ اخروٹ فراہم کئے جار ہے ہیں کئی علاقوں میں اخروٹ کے باغ بنانے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے لیکن جس قدر سیب باغوں کی طرف لوگ متوجہ ہیں اس قدر اخروٹ کی طرف ان کا دھیان نہیں ہے ‘‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اچھی معیار کے اخروٹ کی بازار میں ریٹ بھی اچھی ہے ۔
محمد صادق نامی ایک بیوپاری نے یو این آئی کو بتایا ’’ہم ایسے مزدروں کو زیادہ سے زیادہ مزدوری دیتے ہیں اور وہ بھی پیشگی ہی ادا کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ہر گزرتے سال ان مزدوروں کا ملنا محال بن جاتا ہے ‘‘۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں ایسے مزدور بالکل نہیں ملیں گے جس سے یہ کاروبار ختم ہو سکتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ آج کل اگر کوئی مزدور ملتا ہے وہ کسی مجبوری کے تحت ہی ایسا کام کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے ۔
موصوف نے کہا کہ جس طرح فصل کٹائی اور دیگر کاموں کے لئے مشینوں کا استعمال کیا جا رہا ہے اسی طرح اس کام کی انجام دہی کے لئے بھی کسی مشین کو متعارف کیا جانا چاہئے ۔
قابل ذکر ہے کہ وادی میں اننت ناگ، کپوارہ اور پلوامہ اضلاع اخروٹ پیدوار کے خاص مراکز ہیں جبکہ شوپیاں، بارہمولہ، بڈگام، سری نگر اور گاند بل میں بھی اخروٹ کی اچھی خاصی پیدوار حاصل کی جاتی ہے ۔یو این آئی

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

اننت ناگ میں نارکو، ٹیرر کیس میں غیر منقولہ جائیداد منسلک

Next Post

’جموںکشمیر میں تمام امتحانات وقت پر اور تعلیمی کیلنڈر کے مطابق منعقد ہوں گے‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’۱۰۰روزہ انسدادِ منشیات مہم محض آغاز ‘
اہم ترین

’۱۰۰روزہ انسدادِ منشیات مہم محض آغاز ‘

2026-07-22
مسلسل بارشیں:بیروہ میں میونسپل شاپنگ کمپلیکس سیلابی ریلے کی نذر
اہم ترین

مسلسل بارشیں:بیروہ میں میونسپل شاپنگ کمپلیکس سیلابی ریلے کی نذر

2026-07-22
’ ریاستی درجہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کی بنیاد ہے‘
اہم ترین

’ ریاستی درجہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کی بنیاد ہے‘

2026-07-22
’حکومت سیاسی سرگرمیاں معطل کرے‘ باز آباد کاری پر توجہ دے‘
اہم ترین

’حکومت سیاسی سرگرمیاں معطل کرے‘ باز آباد کاری پر توجہ دے‘

2026-07-22
’جھلستی دھوپ کے باعث تعطیلات ہوئیں، اب بارشوں کے سبب توسیع، یہ کیسا فیصلہ؟‘
اہم ترین

’جھلستی دھوپ کے باعث تعطیلات ہوئیں، اب بارشوں کے سبب توسیع، یہ کیسا فیصلہ؟‘

2026-07-22
جموں کشمیر کے تمام اسکولوں کی  گرمائی تعطیلات۲۶ جولائی تک توسیع
اہم ترین

جموں کشمیر کے تمام اسکولوں کی گرمائی تعطیلات۲۶ جولائی تک توسیع

2026-07-22
وزیر اعلیٰ کا جموں و کشمیر کیلئے مزید سرمایہ کاری کا مطالبہ
اہم ترین

 بارش کے بعد آبی جماؤ  پر وزیر اعلیٰ کا  اسمارٹ سٹی  منصوبے کی تحقیقات کا اعلان

2026-07-22
’ منشیات کے مسئلہ براہِ راست تعلق دہشت گردی سے ہے‘
اہم ترین

 چہرہ شناختی نظام کی مدد سے یو اے پی اے کا ملزم اننت ناگ میں گرفتار

2026-07-22
Next Post
’جموںکشمیر میں تمام امتحانات وقت پر اور تعلیمی کیلنڈر کے مطابق منعقد ہوں گے‘

’جموںکشمیر میں تمام امتحانات وقت پر اور تعلیمی کیلنڈر کے مطابق منعقد ہوں گے‘

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.