سرینگر/۱۸ستمبر
جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے جمعرات کو کہا کہ تمام امتحانات وقت پر اور تعلیمی کیلنڈر کے مطابق منعقد ہوں گے۔
ایتو نے یہ بھی کہا کہ حکومت طلبہ کو درپیش تعلیمی نقصان کی تلافی کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز طلب کر رہی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ایتو نے کہا کہ پہلے جنگ جیسے حالات، پھر ہیٹ ویو اور اس کے بعد جموں و کشمیر میں سیلاب جیسی صورتحال کی وجہ سے‘ طلبہ کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی۔
ایتو نے مزید کہا کہ دونوں خطوں میں بعض اسکول حالیہ سیلاب اور قدرتی آفات سے متاثر اور تباہ ہوئے۔ ’’لیکن جہاں تک امتحانات کا تعلق ہے، میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ تمام امتحانات وقت پر ہوں گے‘‘۔
وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ محکمہ اس سال طلبہ کو مختلف حالات کی وجہ سے درپیش تعلیمی نقصان کی تلافی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز طلب کر رہا ہے۔
ان کاکہنا تھا’’گزشتہ سال ہم نے تعلیمی سیشن کو مارچ سے نومبر،دسمبر میں منتقل کیا، یہ ایک بڑا چیلنج تھا اور اب ہم نے اسے بڑی حد تک منظم کر لیا ہے۔‘‘
وزیر تعلیم نے نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں اپنی ذمہ داری پارلیمنٹ میں نبھانی چاہئے ۔
ایتو نے کہا کہ آغا روح اللہ کو عوام نے دہلی بھیجنے کے لیے منتخب کیا ہے تاکہ وہ پارلیمان میں جموں و کشمیر کے اصل مسائل اُجاگر کریں۔انہوں نے کہا کہ اُن کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ایوان میں اپنی آواز بلند کریں، یہاں تنقید کر کے نہ طلبہ کو کوئی فائدہ ہوگا اور نہ ہی تعلیمی نظام کو۔
وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت ریاست میں تعلیم سمیت تمام شعبوں کو بہتر بنانے کیلئے دن رات کوشاں ہے اور ایسے وقت میں بلاوجہ کی تنقید سے عوامی مفادات متاثر نہیں ہونے دیے جائیں گے ۔
ایتو نے زور دے کر کہا کہ پارلیمانی نمائندوں کو چاہیے کہ وہ اپنی توانائی اور صلاحیتیں دہلی میں استعمال کریں جہاں ان کے الفاظ واقعی اثر ڈال سکتے ہیں۔
وزیر تعلیم نے پی ڈی پی کی صدر‘محبوبہ مفتی کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ موصوفہ منفی سیاست کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسی منفی سیاست کہ وجہ سے پی ڈی پی ۲۸ سے۳؍اسمبلی نشستوں پر آئی ۔
ایتو نے کہا کہ محبوبہ بلاوجہ وزیر اعلیٰ ‘عمرعبداللہ کی تنقید کرتی رہتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف محبوبہ مفتی ‘وزیر اعلیٰ کو سرینگر جموں قومی شاہراہ کی بحالی میں ناکامی پر مورد الزام ٹھہرا تی ہیں اور دوسری جانب شاہراہ کی بحالی کیلئے اپنی بیٹی ‘التجا مفتی کو میمورنڈم دینے کیلئے ایل جی سنہا کے پاس بھیج دیتی ہیں ۔










