سرینگراور وادی کے کچھ دوسرے میدانی علاقوں میں پیر کی شام کو موسلادھار بارشیں شروع ہوئیں جو دیر تک جاری رہیں ۔
محکمہ موسمیات کاکہناہے کہ وادی کے علاوہ جموں میں بھی آئندہ ۴۸گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کا امکان ہے ۔
موسمیات محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جموں کشمیر میں یکم ستمبر کو موسم عام طور پر خشک رہنے کا امکان ہے تاہم دوپہر کے بعد کہیں کہیں ہلکی بارشوں کا امکان ہے اور جموں صوبے کے کچھ علاقوں میں یکم ستمبر کی شام سے۲ستمبر کی صبح تک شدید بارشیں ہوسکتی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ ۲؍اور ۳ستمبر کو موسم عام طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے اور اس دوران کئی مقامات پر ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشیں متوقع ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جموں صوبے کے کٹھوعہ، جموں، اور ریاسی ضلاع میں کہیں کہیں شدید بارشیں جبکہ ڈوڈہ، سامبہ، راجوری، پونچھ، رام بن، کشتواڑ، اننت ناگ اور کولگام اضلاع میں۲ستمبر کی شام سے۳ستمبر کی دو پہر تک درمیانی سے بھاری بارشیں متوقع ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ بعد میں۴سے۷ستمبر تک موسم عام طور پر خشک رہنے کا امکان ہے تاہم اس دوران بھی کہیں کہیں ہلکی بارشوں کا امکان ہے ۔
محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ اس دوران خاص کر جموں صوبے میں کہیں کہیں بادل پھٹنے ، سیلابی ریلے آنے ، لینڈ سلائیڈنگ ہونے اور چٹانیں کھسک آنے کے بھی خطرات ہیں۔
ایڈوائزری میں کہا گیا کہ دریائوں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بڑھ سکتی ہے اور خاص طور پر جموں کے نشیبی علاقوں میں پانی بھی جمع ہوسکتا ہے ۔
لوگوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے ۔
اس دوران گزشتہ ہفتے۲۶؍اگست کو جموں کشمیر کے ضلع کشتواڑ کی دور افتادہ وارون ویلی میں بادل پھٹنے کے نتیجے میں تقریباً۱۹۰مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ۴۵مویشی ملبے تلے دب کر ہلاک ہوگئے ۔
ڈپٹی کمشنر کشتواڑ پنکج کمار شرما بذاتِ خود مرواہ،وارون ویلی پہنچے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک ماہ کا راشن فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ ان کے ہمراہ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نریش سنگھ بھی موجود تھے ۔ ریڈ کراس کی جانب سے راشن اور دیگر امدادی سامان موقع پر ہی متاثرین میں تقسیم کئے گئے ۔
ڈی سی کے مطابق، مارگی گاؤں میں سب سے زیادہ نقصان ریکارڈ کیا گیا جہاں۲۲۴گھروں میں سے۵۰مکانات مکمل طور پر منہدم ہوئے‘۱۳۰تا۱۴۰شدید متاثر ہوئے جبکہ باقی جزوی طور پر متاثر پائے گئے ۔ انہوں نے ریونیو محکمے ، ایس ڈی آر ایف اور دیگر اداروں کو ہدایت دی کہ ملبہ صاف کرنے کی کارروائی میں تیزی لائی جائے تاکہ متاثرہ دیہات کو جلد از جلد معمول کی زندگی کی طرف لایا جاسکے ۔
کمار نے مزید بتایا کہ مرواہ اور وارون کے چھ سے سات مختلف مقامات پر بادل پھٹنے کے واقعات ہوئے جن سے سڑکیں اور پل بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ کھڑی فصلوں اور میوہ باغات کے نقصان کا تخمینہ لگا کر کسانوں کو معاوضہ فراہم کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ہی محکمہ جل شکتی کو متاثرہ آبی پائپ لائنوں کی بحالی اور متاثرہ خاندانوں کو محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے ۔
ڈپٹی کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ جلد ہی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم علاقے کا دورہ کرے گی تاکہ طویل مدتی حفاظتی اقدامات کی منصوبہ بندی کی جا سکے ۔ انہوں نے اور ایس ایس پی نے رات بھر وارون میں قیام کیا اورعوامی میٹنگ میں لوگوں سے براہ راست تبادلہ خیال کیا۔









