وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں مالی شمولیت کے منصوبوں، سماجی تحفظ کی کوریج، ضلعی کیپیکس اور حلقہ بندی ترقیاتی فنڈ (سی ڈِی ایف) کے کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعلیٰ نے رواں مالی برس کے لئے جی ایس ٹی کی وصولی، ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو کا بھی جائزہ لیا۔
پرنسپل سیکرٹری فائنانس سنتوش ڈی ویدیا نے مالی اور سماجی شمولیت کی سکیموں، آمدنی پیدا کرنے کے رُجحانات، اور کیپکس و سی ڈِی ایف کاموں کے تحت ضلع وار پیش رفت کے بارے میں تفصیلی پرزنٹیشن دی۔
وزیرِ اعلیٰ نے کاموں کی اَپ لوڈنگ اور ٹینڈرنگ کی سست روی پر نوٹس لیا اور تمام محکموں اور اضلاع کو ہدایت دی کہ وہ آمدنی کی وصولی اور سماجی شمولیت کی سکیموں پر توجہ دیں اور مالی برس کے آخری سہ ماہی تک اِصلاحی اَقدامات کو مؤخر نہ کریں بلکہ ماہانہ بنیادوں پر پیش رفت کا جائزہ لیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’محکمے فروری اور مارچ کے مہینے کا انتظار نہ کریں کہ آمدنی کے ہدف حاصل کریں۔ ہر محکمہ کو فائنانس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے مخصوص خط موصول ہوگا جس میں ان کے مسائل کی نشاندہی اور چھ ماہ کا آمدنی ہدف تفصیل سے دیا جائے گا۔ اُنہیں آج سے ماہانہ منصوبہ بندی کے ساتھ آمدنی کی بہتری پر کام شروع کرنا چاہیے۔‘‘
عمرعبداللہ نے مزید ہدایت دی کہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کو فائنانس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ضلعی سطح پر بالخصوص سماجی بہبود کے منصوبوں جیسے کہ پی ایم جن دھن یوجنا، پی ایم سُرکشا بیمہ یوجنا، پی ایم جیون جیوتی بیمہ یوجنا، اَٹل پنشن یوجنا، اِنٹگریٹیڈ سوشل سیکورٹی سکیم، بیوہ، بڑھاپے اور معذوری کی پنشنوں کی کوریج کے حوالے سے خاص ہدایات دی جائیں گی۔ اُنہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ پی ایم جن دھن یوجنا اور دیگر منصوبوں میں کھاتہ داروں کی تعداد میں کمی کی وجوہات تلاش کریں۔ اُنہوں نے کہا،’’ہم تین ماہ بعد سماجی بہبود کے منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لیں گے اور مجھے ضلعی سطح پر کوریج میں نمایاں بہتری دیکھنے کی اُمید ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے سی ڈی ایف کے تحت کاموں کی حتمی منظوری کو تیز کرنے اور بی اِی ایم ایس پورٹل پر کاموں کی اَپ لوڈنگ کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے ہدایت دی کہ ارکان قانون ساز کو یوٹی اور ضلعی کیپیکس منصوبوں میں شامل کاموں کے بارے میںمطلع کیا جائے جن کوارکان قانون ساز نے بجٹ سے پہلے کی میٹنگوں کے دوران ترجیح دی تھی اور انہیں ایسے کاموں کے بارے میں بھی آگاہ کیا جائے جو قابل عمل نہیں پائے گئے۔
عمرعبداللہ نے متنبہ کیا کہ آمدنی کی وصولی میں تاخیر حکومت کو مشکل فیصلے کرنے پر مجبور کر سکتی ہے جیسے کہ محکموں کے اخراجات میں کٹوتی۔ اُنہوں نے کہا ،’’اگر محکمے اپنے اخراجات میں کٹوتی نہیں چاہتے تو انہیں جتنا ممکن ہو آمدنی کی بہتری پر توجہ دینی ہوگی۔ یہ ذمہ داری ہر محکمہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ بروقت پیش رفت کو یقینی بنائے۔‘‘
میٹنگ میں نوٹ کیا گیا کہ حالیہ برسوںمیں سماجی تحفظ کے منصوبوں میں قابلِ ذکر ترقی ہوئی ہے جس میں پی ایم جن دھن یوجنا کے کھاتہ داروں کی تعداد۲۳ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، پی ایم سُرکشا بیمہ یوجنا میں۸ئ۲۳ لاکھ کھاتہ دار شامل ہیں اور پی ایم جیون جیوتی بیمہ یوجنا تقریباً ۸۳ئ۹لاکھ اَفراد کو کور کر رہی ہے۔
اِسی طرح، بلڈنگ اینڈ ادر کنسٹرکشن ورکرز بورڈ کے تحت چلنے والے فلاحی سکیموں کے حوالے سے میٹنگ کو بتایا گیا کہ مالی برس۲۵۔۲۰۲۴ ء میں۵ئ۲ لاکھ مستفیدین کو ۹۰ئ۱۶۶روپے کروڑ کی رقم فراہم کی گئی لیکن فعال ورکر رجسٹریشن کم ہے جس کے لئے توسیعی کوششوں کی ضرورت ہے۔
وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے اخراجات اور ریونیوکے بہاؤ کی نگرانی کو مضبوط بنانے، کاموں کی صد فیصد اَپ لوڈنگ کو یقینی بنانے، اِنتظامی منظوریوں، ٹینڈرنگ اور ضلعی کیپیکس کاموں کی تکمیل کو تیز کرنے پر زور دیا۔ اُنہوں نے سماجی تحفظ کے منصوبوں تک رَسائی بہتر بنانے اور دعوئوںکے جلد تصفیے کے لئے بیداری مہمات میں کو تیز کرنے پر بھی زور دیا۔
وزیر اعلیٰ نے سماجی تحفظ، شمولیتی ترقی اور مالی نظم و ضبط کے لئے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ تمام محکموں اور ضلع ترقیاتی کمشنروں پر زور دیاکہ وہ مقررہ اہداف کے حصول کے لئے فائنانس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ قریبی تال میل کے ساتھ کام کریں










