ہفتہ, جولائی 25, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

’پاکستان کا سیلاب سے متعلق پروپیگنڈا بے بنیاد‘ چناب میں طغیانی مون سون بارشوں کا نتیجہ‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-25
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
’پاکستان کا سیلاب سے متعلق پروپیگنڈا بے بنیاد‘ چناب میں طغیانی مون سون بارشوں کا نتیجہ‘
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

آئی ڈبلیو ٹی معطل رہے گی، تاہم انسانی بنیادوں پر ضرورت پڑنے پر سیلابی اعداد و شمار فراہم کیے جائیں گے:وزارت خارجہ

ویب ڈیسک

متعلقہ

جہلم کی سطحِ آب میں کمی کا رجحان جاری

ڈی جی پی کا جموں کشمیر کی  سیکورٹی صورتحال کا جائزہ

سرینگر؍۲۴ جولائی

بھارت نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ بھارت جان بوجھ کر پاکستان میں سیلابی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو بے بنیاد، حقائق کے منافی اور پاکستان کے اپنے سرکاری ریکارڈ سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے چناب میں پانی کی سطح میں حالیہ اضافہ۲۰ سے۲۳ جولائی۲۰۲۶ کے دوران جموں اور ملحقہ آبی ذخائر میں ہونے والی شدید مون سون بارشوں کا براہِ راست نتیجہ ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن، لاہور نے بھی۲۲ جولائی۲۰۲۶ کو جاری اپنی فلڈ ایڈوائزری میں واضح طور پر کہا تھا کہ دریائے چناب میں سیلابی کیفیت بالائی علاقوں میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ کچھ عرصہ بلند رہنے کے بعد بارشوں میں کمی کے ساتھ بتدریج کم ہو جائے گا۔

بھارت نے کہا کہ دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافہ ایک فطری ہائیڈرولوجیکل عمل ہے، جو مون سون کی شدید بارشوں کے باعث رونما ہوا، نہ کہ بھارت کی کسی دانستہ کارروائی کا نتیجہ۔

بیان میں کہا گیا کہ موسم کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کو بھارت کی جانب سے کسی مداخلت کے طور پر پیش کرنا نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ تکنیکی اعتبار سے بھی ناقابلِ قبول ہے، جبکہ پاکستان کے اپنے سرکاری سیلابی انتباہات بھی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

بھارت نے سیلاب سے متعلق بروقت انتباہ نہ دینے کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس عرصے کے دوران دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ اس حد تک غیر معمولی نہیں تھا کہ خصوصی سیلابی وارننگ جاری کی جاتی۔ وزارت خارجہ کے مطابق پانی کا بہاؤ بالائی علاقوں میں مون سون کے معمول کے مطابق تھا، جس کی تصدیق پاکستان کے اپنے فلڈ فورکاسٹنگ اداروں نے بھی کی ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ کہ بھارت نے دانستہ طور پر سیلاب سے متعلق معلومات روکے رکھیں، حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

تاہم بھارت نے کہا کہ گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی اگر غیر معمولی سیلابی صورتحال پیدا ہوئی تو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سفارتی ذرائع کے ذریعے پاکستان کے ساتھ ہائی فلڈ ڈیٹا کا تبادلہ کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے بارے میں بھارت کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا ہے اور یہ معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کو قابلِ اعتماد اور ناقابلِ واپسی انداز میں ترک نہیں کرتا۔

دوسری جانب چین سے متعلق سوال کے جواب میں وزارت خارجہ نے کہا کہ خارجہ امور کے وزیر (ای اے ایم) نے واضح کیا ہے کہ خودمختاری کے معاملے میں اعتراض اٹھانے کا حق بھارت کو حاصل ہے کیونکہ بھارت کبھی بھی چین کی خودمختاری کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ اس کے برعکس چین۱۹۶۳ سے جموں و کشمیر اور لداخ کے بھارتی علاقوں پر غیر قانونی قبضہ کیے ہوئے ہے، جس پر بھارت مسلسل اعتراض کرتا رہا ہے۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ چین کی جانب سے جموں و کشمیر کے بھارتی علاقوں میں جاری منصوبوں پر بھی بھارت کو سخت اعتراض ہے۔

بیان میں یوکرین کے شہر اوڈیسا کی بندرگاہ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کا بھی ذکر کیا گیا۔ وزارت خارجہ نے بتایا کہ بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میری ٹائم ایڈمنسٹریشن سے موصولہ معلومات کے مطابق ایم وی گولڈن لیو نامی گنی بساؤ کے پرچم بردار تجارتی جہاز نے۱۹ جولائی۲۰۲۶  کو روانگی سے قبل اناج بطور مال برداری لوڈ کیا تھا۔

بھارت نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ تجارتی بحری جہازوں اور ملاحوں کو کسی بھی صورت نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ بیان کے مطابق وزیر خارجہ نے یہ مؤقف مشرقی ایشیا سمٹ اور آسیان ریجنل فورم کے اجلاسوں میں بھی واضح کیا تھا اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے دوران بھی اس کا اعادہ کیا۔

۔۔۔۔۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ایل جی کی ہلاک شدہ ہیڈ کانسٹیبل کے اہلِ خانہ سے ملاقات

Next Post

ڈی جی پی کا جموں کشمیر کی  سیکورٹی صورتحال کا جائزہ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

جہلم کی سطحِ آب میں کمی کا رجحان جاری
اہم ترین

جہلم کی سطحِ آب میں کمی کا رجحان جاری

2026-07-25
ڈی جی پی کا جموں کشمیر کی  سیکورٹی صورتحال کا جائزہ
اہم ترین

ڈی جی پی کا جموں کشمیر کی  سیکورٹی صورتحال کا جائزہ

2026-07-25
ایل جی کی ہلاک شدہ ہیڈ کانسٹیبل کے اہلِ خانہ سے ملاقات
اہم ترین

ایل جی کی ہلاک شدہ ہیڈ کانسٹیبل کے اہلِ خانہ سے ملاقات

2026-07-25
پیپر لیک پر۱۰ سال قید، ایک کروڑ روپے جرمانہ؛ مرکز کا سخت قانون جو۲۰۲۴ میں نافذ کیا گیا تھا
اہم ترین

پیپر لیک پر۱۰ سال قید، ایک کروڑ روپے جرمانہ؛ مرکز کا سخت قانون جو۲۰۲۴ میں نافذ کیا گیا تھا

2026-07-25
’جنتر منتر پر احتجاج کا پروگرام برقرار‘
اہم ترین

حکومت جموں و کشمیر کو فلم سازوں کی پسندیدہ منزل بنانے کیلئے  پُرعزم:وزیرا علیٰ

2026-07-25
دو بھائیوں کی موت کی تحقیقات کی مانگ
اہم ترین

پرہ کے خلاف استحقاق شکنی معاملے کی سماعت۷؍اگست تک ملتوی

2026-07-25
کشمیر سے امرناتھ یاترا کادونوں بالتل اور ننون بیس کیمپوں سے با قاعدہ آغاز
اہم ترین

امرناتھ یاترا آج سے دوبارہ شروع ہونے کا امکان

2026-07-25
 جموں،سرینگر قومی شاہراہ   مسلسل تیسرے روز بھی بند   ایک ہزار گاڑیاں درماندہ
اہم ترین

 جموں،سرینگر قومی شاہراہ  مسلسل تیسرے روز بھی بند  ایک ہزار گاڑیاں درماندہ

2026-07-25
Next Post
ڈی جی پی کا جموں کشمیر کی  سیکورٹی صورتحال کا جائزہ

ڈی جی پی کا جموں کشمیر کی  سیکورٹی صورتحال کا جائزہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.