رام منشی باغ میں اب بھی فلڈ ڈیکلریشن مارک سے اوپر‘سنگم اور پانپور میں بھی پانی کی سطح گھٹی: محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول
جمعہ کی دوپہر سے سرینگر میں موسم میں بہتری ‘۲۸ جولائی سے جموںکشمیر میں ایک اور شدید بارشوں کا سلسلہ متوقع:محکمہ موسمیات
(ندائے مشرق خبر)
سرینگر؍۲۴ جولائی
محکمہ موسمیات کے مطابق جموں و کشمیر میں جمعہ کی دوپہر کے بعد بارشوں کی شدت میں کافی کمی آئی اور دریاؤں میں سطح آپ کم ہونے لگی ۔اس کاکہنا ہے کہ ۲۷ جولائی تک کسی بڑے یا مسلسل بارش کے سلسلے کی توقع نہیں ہے۔ تاہم۲۸ جولائی سے ایک نیا موسمی سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے، جس کے باعث شدید بارش، لینڈ سلائیڈ، مٹی کے تودے گرنے اور اچانک سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
دریائے جہلم میں پانی کی سطح جمعہ کی صبح بھی سنگم، پانپور اور رام منشی باغ سمیت اہم پیمائشی مقامات پر مسلسل کم ہوتی رہی، اگرچہ رام منشی باغ میں پانی کی سطح اب بھی فلڈ ڈیکلریشن مارک سے اوپر برقرار ہے۔
محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رام منشی باغ میں دریائے جہلم کی سطح۱۹ء۰۷ فٹ ریکارڈ کی گئی، جو مسلسل کم ہو رہی ہے۔ تاہم یہ سطح اب بھی۱۸ فٹ کے فلڈ ڈیکلریشن مارک سے زیادہ، لیکن۲۱ فٹ کے خطرے کے نشان (ڈینجر مارک) سے نیچے ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سنگم میں پانی کی سطح۱۸ء۸۹ فٹ جبکہ پانپور میں۵ء۱۳ میٹر ریکارڈ کی گئی، اور دونوں مقامات پر بھی پانی کی سطح میں کمی کا رجحان دیکھا گیا۔
دوسری جانب آشم اور ولر میں پانی کی سطح میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم یہ دونوں مقامات اب بھی اپنے اپنے فلڈ ڈیکلریشن مارک سے نیچے ہیں۔
دریائے جہلم کی معاون ندیوں میں ویشو نالہ میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے، جبکہ رمبی آرا اور سندھ ندی میں پانی کم ہو رہا ہے۔ لدر اور دودھ گنگا میں پانی کی سطح مستحکم رہی۔
محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ انتظامیہ نے خصوصاً دریاؤں کے کناروں اور حفاظتی بندوں کے قریب رہنے والے لوگوں کو چوکس رہنے اور سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔
اس دوران محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر‘ مختار احمد نے جمعہ کو بتایا کہ محکمہ کی گزشتہ موسمی پیش گوئی درست ثابت ہوئی اور۲۳ جولائی کی دوپہر تک جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں مسلسل بارش ریکارڈ کی گئی۔
احمد نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین روز کے دوران جنوبی کشمیر اور بالائی آبی ذخائر کے علاقوں میں بھی شدید بارش ہوئی، جبکہ آج صبح ایک بار پھر بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر کے مطابق موجودہ بارشوں کا زیادہ اثر چناب وادی، جنوبی کشمیر سے ملحقہ علاقوں اور پیر پنجال کے اضلاع پر پڑ رہا ہے، تاہم یہ سلسلہ جمعہ کی دوپہر تک جاری رہنے کے بعد بتدریج کم ہو جائے گا۔
احمد نے کہا کہ۲۷ جولائی تک کسی بڑی یا مسلسل بارش کا امکان نہیں ہے، تاہم۲۸ جولائی سے ایک نیا موسمی سلسلہ جموں ڈویژن اور اس سے ملحقہ علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق آئندہ موسمی نظام کے نتیجے میں جموں کے میدانی علاقے، چناب وادی اور پیر پنجال خطہ زیادہ متاثر ہوں گے، جبکہ کشمیر وادی کے بعض علاقوں میں بھی ہلکی سے درمیانی بارش اور چند مقامات پر شدید بارش ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر نے خبردار کیا کہ بارشوں کے اس نئے سلسلے کے باعث لینڈ سلائیڈ، پہاڑوں سے پتھر گرنے، مٹی کے تودے کھسکنے اور حساس علاقوں میں اچانک سیلاب آنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
احمد نے بتایا کہ حالیہ بارشوں کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، تاہم محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اب پانی کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور دیگر آبی ذخائر کے قریب غیر ضروری طور پر جانے سے گریز کریں، کیونکہ کئی مقامات پر پانی کی سطح اب بھی بلند ہے۔
احمد نے سیاحوں، ٹرانسپورٹروں اور عام لوگوں کو بھی ہدایت دی کہ موجودہ خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر فی الحال پہاڑی علاقوں کا سفر نہ کریں، کیونکہ لینڈ سلائیڈ، پتھر گرنے اور مٹی کے تودے کھسکنے کا خطرہ بدستور برقرار ہے۔
محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر نے مزید خبردار کیا کہ مسلسل بارشوں کے باعث زمین مکمل طور پر سیراب ہو چکی ہے، جس سے کمزور اور کچے مکانات کے منہدم ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے انتظامیہ اور محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔









