ایجنسیاں
سرینگر؍۲۴ جولائی
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی استحقاقی کمیٹی کا اجلاس آج اسمبلی کمپلیکس میں جسٹس (ر) حسنین مسعودی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں رکن اسمبلی وحید الرحمن پرہ کے خلاف استحقاق شکنی کے معاملے کا پارلیمانی روایات اور ضابطہ کار کے مطابق جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں اراکین اسمبلی شوکت حسین گنائی، خورشید احمد، ظفر علی کھٹانہ، وجے کمار، راجیو کمار اور درشن کمار نے شرکت کی۔
کمیٹی نے۲۳ جولائی۲۰۲۶ کوپرہ کی جانب سے موصولہ تحریری مکتوب کا جائزہ لیا، جس میں انہوں نے این آئی اے کی جموں عدالت میں پہلے سے طے شدہ مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں پیش ہونے کی مجبوری ظاہر کرتے ہوئے استحقاقی کمیٹی کے روبرو حاضر نہ ہو سکنے سے آگاہ کیا تھا۔
اپنے مکتوب میں پرہ نے کمیٹی سے درخواست کی تھی کہ ان کی پیشی ملتوی کرتے ہوئے نئی تاریخ مقرر کی جائے۔ انہوں نے کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون اور آئندہ مقررہ تاریخ پر حاضر ہونے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
کمیٹی نے ان کی درخواست پر غور کرتے ہوئے قرار دیا کہ پیش کی گئی وجہ حقیقی اور ناگزیر ہے۔ چنانچہ چیئرمین نے التوا کی درخواست منظور کرتے ہوئے پرہ کو۷؍ اگست۲۰۲۶کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی اجازت دی۔ اس ضمن میں باضابطہ نوٹیفکیشن بعد میں جاری کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران کمیٹی نے قانون ساز اسمبلی کے اراکین کے اختیارات، استحقاقات اور آئینی تحفظات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ یہ استحقاقات منتخب نمائندوں کو کسی خوف یا دباؤ کے بغیر اپنی قانون سازی کی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے فراہم کیے گئے ہیں۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ آئین ہند کے آرٹیکل۱۹۴ کے تحت اراکین اسمبلی کو ایوان اور اس کی کمیٹیوں میں اظہارِ رائے کی آزادی سمیت متعدد آئینی استحقاقات حاصل ہیں۔
اس موقع پر اسمبلی سیکریٹری منوج کمار پنڈتا نے کمیٹی کو اراکین اسمبلی کے خصوصی اختیارات اور استحقاقات سے متعلق تفصیلی جانکاری فراہم کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اختیارات آئین ہند کے آرٹیکل۱۹۴ کے تحت ریاستی مقننہ، اس کے اراکین اور کمیٹیوں کو حاصل ہیں تاکہ وہ آزادانہ اور مؤثر انداز میں اپنی آئینی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
کمیٹی نے مزید کہا کہ ایوان اور اس کی کمیٹیوں کو جوابدہی، مؤثر قانون سازی اور جمہوری ادارے کی وقعت و خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے مخصوص اختیارات حاصل ہیں۔
اجلاس میں اسمبلی سیکریٹریٹ کے متعدد افسران اور اہلکار بھی موجود تھے۔










