سرینگر//
سرینگر کے صدر اسپتال (ایس ایم ایچ ایس) میں ایک سینئر ڈاکٹر پر تیماردار کی جانب سے مبینہ حملے کے خلاف بدھ کے روز اسپتال کے ڈاکٹروں نے احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں طبی خدمات متاثر ہوئیں اور مریضوں و تیمارداروں کو گوناں گوں مسائل سے دوچار ہونا پڑا۔
احتجاج اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک تیماردار کو دورانِ ڈیوٹی موجود ڈاکٹر کو تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ، جس کے نتیجے میں وہ زمین پر گر پڑتا ہے ۔ یہ واقعہ منگل کی شب اسپتال کے ایمرجنسی سیکشن میں پیش آیا۔
احتجاجی ڈاکٹروں نے اسپتال کے احاطے میں جمع ہو کر نعرے بازی کی اور پرامن مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملزم کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور اسپتال میں تعینات طبی و نیم طبی عملے کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کی جا سکے ۔
ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ وہ مریضوں کی خدمت کے لیے چوبیس گھنٹے موجود رہتے ہیں، لیکن اگر ان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر رہیں گے ۔
ایک احتجاجی ڈاکٹر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا’’ہم صرف تحفظ چاہتے ہیں، تاکہ ہم بلا خوف و خطر اپنی خدمات انجام دے سکیں‘‘۔
ادھر اسپتال میں جاری احتجاج کے باعث دور دراز علاقوں سے آئے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مریضوں نے شکایت کی کہ او پی ڈی بند ہونے کی وجہ سے ان کا علاج نہیں ہو سکا جبکہ ایمرجنسی سروسز بھی سست روی کا شکار رہیں۔
ایک تیماردار نے میڈیا کو بتایا’’ہم شوپیاں سے اپنے مریض کو لے کر آئے تھے ، لیکن یہاں ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے ہمیں گھنٹوں انتظار کرنا پڑا اور کوئی رہنمائی نہیں دی گئی‘‘۔
ادھر، اسپتال انتظامیہ نے واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس تھانے میں شکایت درج کرائی ہے ۔ پولیس نے کہا ہے کہ ویڈیو کی تصدیق اور ملزم کی شناخت کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔










