سرینگر//
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں کشمیر میں شفاف اور جوابدہ عوامی خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانے کیلئے تمام اِنتظامی سیکرٹریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر ماہ لازمی جائزہ میٹنگ منعقد کریں تاکہ جموں و کشمیر پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ (پی ایس جی اے) ۲۰۱۱ کی عمل آوری کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکے۔
وزیراعلیٰ نے عوامی خدمات کی بروقت فراہمی پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ تاخیر کی صورت میں متعلقہ افسران پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ انہوں نے انتظامی سستی کے خلاف حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کیا۔
اِن باتوں کا اِظہار اُنہوں نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔
اِس میٹنگ میں چیف سیکرٹری اتل ڈولو، ایڈیشنل چیف سیکرٹریوں اور تمام اِنتظامی سیکرٹریوں نے شرکت کی ۔دورانِ میٹنگ عمر عبداللہ نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بعض محکموں میں پی ایس جی اے پر مسلسل نگرانی نہیں ہو رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’انتظامی سیکرٹریوں کی سطح پر ماہانہ جائزہ لیا جانا چاہیے محکموں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ایکٹ کو مضبوطی سے عملایا جائے۔ اگر کسی خدمت میں بلا جواز تاخیر ہو، تو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔‘‘
عمرعبداللہ نے بجٹ کی رُکاوٹوں اور پورٹل کے مسائل سے متعلق چیلنجوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا الگ سے جائزہ لیا جائے گا اور اسی کے مطابق فیصلے کئے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’جہاں درخواستیں مسترد کی جائیں، وہاں مسترد کرنے کی واضح وجوہات بیان کی جائیں تاکہ شہری اپیل کا حق برقرار رکھ سکیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ عمر اللہ نے افسران کی صوابدیدی اختیارات کے غلط استعمال پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس جی اے کا مقصد ایسے اختیارات کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے خدمات کی بروقت فراہمی اور تاخیر کی صورت میں سخت جرمانے پر زور دیا۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا’’اس ایکٹ کی روح وقت پر خدمات کی فراہمی ہے۔ اگر وقت کی خلاف ورزی ہو تو کسی رعایت کے بغیر جرمانہ کیا جائے۔ نرمی نہ برتی جائے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے نگرانی کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اعلان کیا کہ پی ایس جی اے پر عمل درآمد کا جامع جائزہ ہر تین ماہ بعد وزیر اعلیٰ سطح پر لیا جائے گا جس کی بنیاد پر چیف سیکرٹری کے دفتر سے اشتراک کی گئی محکمانہ رپورٹس ہیں۔
میٹنگ میں تمام محکموں کی جانب سے پی ایس جی اے کی عمل آوری کی موجودہ صورتِ حال اور طریقہ کار پر تفصیلی پرزنٹیشنز دی گئیں۔ اِس ایکٹ کا مقصد تمام سرکاری خدمات کی شفاف، وقت پر اور جوابدہ فراہمی ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ اَب تک ۴۹۳ سرکاری خدمات پی ایس جی اے کے تحت نوٹیفائی کی جا چکی ہیں جن میں سب سے زیادہ خدمات محکمہ بجلی (۹۸)‘ریونیو (۵۸)‘فائنانس (۵۸)‘ٹرانسپورٹ، مکانات و شہری ترقیاتی محکمہ (۴۷ ہر ایک)، صنعت و حرفت (۴۰) اور صحت، تعلیم، جنگلات، زراعت سمیت دیگر شامل ہیں۔










