جموں//
جموں کشمیر کے کٹھوعہ اور ادھم پور کے گھنے جنگلات میں سکیورٹی فورسز نے تلاشی آپریشن کا دائرہ مزید کئی علاقوں تک وسیع کر دیا ہے ۔
معلوم ہوا ہے کہ مفرور ملی ٹینٹوں کی تلاش کے لیے اضافی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، کٹھوعہ اور ادھم پور کے گھنے جنگلات میں جمعے کے روز بھی تلاشی آپریشن جاری رہا۔
ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے متعدد جنگلی علاقوں کو گھیرے میں لے کر سخت پہرہ بٹھا دیا ہے تاکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری کارروائی کی جا سکے ۔
حکام کے مطابق، فوج، پولیس، سی آر پی ایف اور بی ایس ایف نے وسیع جنگلی علاقوں کو سیل کرکے شہریوں کی نقل و حمل پر پابندی عائد کر دی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگلات میں محصور ملی ٹینٹوں کو بہت جلد انجام تک پہنچایا جائے گا۔
کٹھوعہ میں ملی ٹینٹ سرگرمیوں میں اضافے کے پیش نظر بین الاقوامی سرحد کی سکیورٹی کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ دراندازی کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید موثر اور سخت بنایا جا سکے ۔
ذرائع کے مطابق، نئی سیکورٹی حکمتِ عملی کے تحت بین الاقوامی سرحد پر موجود کمزوریوں کی نشاندہی، اور جدید نگرانی ٹیکنالوجی ، جیسے فضائی ڈرونز، تھرمل امیجنگ، اور دیگر ہائی ٹیک آلات کے استعمال میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ سرحدی نگرانی کو مزید موثر بنایا جا سکے ۔
دریں اثنا، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ادھم پور،ریاسی رینج) رئیس بٹ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ شام پولیس کو اطلاع ملی کہ ادھم پور میں دو مشتبہ افراد کو دیکھا گیا ہے ۔
بٹ نے کہا کہ اطلاع موصول ہوتے ہی پولیس اور فوج نے مشترکہ طور پر تلاشی آپریشن کا آغاز کر دیا۔
ڈی آئی جی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت کو دیکھیں تو فوراً نزدیکی پولیس اسٹیشن کو مطلع کریں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے ۔