نئی دہلی/۴اپریل
راجیہ سبھا نے وقف بورڈ ز کی جوابدہی، شفافیت اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے لائے گئے وقف (ترمیمی) بل 2025 اور مسلمان وقف (ریپیل) بل 2024 کواپوزیشن کی تمام ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے جمعہ کو علی الصبح ووٹوں کی تقسیم کے ذریعے 93 کے مقابلے میں 128 ووٹوں سے منظور کردیا۔
اس طرح سے اس پر پارلیمنٹ کی مہر لگ گئی۔ لوک سبھا اسے پہلے ہی پاس کر چکی ہے ۔
ایوان نے ڈی ایم کے کے تروچی سیوا کی ترمیمی تحریک کو بھی ووٹوں کی تقسیم کے ذریعے مسترد کر دیا۔ اس تجویز کے حق میں 92 اور مخالفت میں 125 ووٹ پڑے ۔ اپوزیشن جماعتوں کے کئی ارکان نے بل کے تقریباً ہر آرٹیکل میں ترامیم کی تجویز پیش کی تھی لیکن ایوان نے ان تمام تجاویز کو صوتی ووٹ سے مسترد کر دیا۔
منی پور میں صدر راج کے نفاذ سے متعلق آئینی قرارداد کو صوتی ووٹ سے منظور ہونے کے بعد، چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے صبح 4 بجے کے بعد ایوان کو بتایا کہ پہلے اس بل پر ووٹوں کی تقسیم میں اس کے حق میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے تھے ، لیکن جب تمام پرچیوں اور الیکٹرونک ووٹوں کا میچ ہوا تو پتہ چلا کہ ان کے دو ممبران محترمہ ڈولا سین مسٹرسبرتا بنرجی نے اپنی اپنی سیٹ سے الیکٹرانک طریقے سے ووٹ نہیں کیاتھا۔
محترمہ سین اپنی مقررکردہ سیٹ 151 اور مسٹر بنرجی سیٹ نمبر 133 سے ووٹنگ نہیں کی تھی جس کے باعث ضوابط کے مطابق ان دونوں ووٹوں کو منسوخ کر دیاگیا ہے ۔
اس طرح مخالفت میں ڈالے گئے 95 میں سے دو ووٹ کینسل ہونے کے بعد 93 ووٹ باقی رہ گئے ۔ یہ دونوں ارکان ترنمول کانگریس سے تعلق رکھتے ہیں اور پارٹی نے ایوان میں اس بل کے خلاف ووٹ دیا تھا۔
اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بل پر تقریباً 13 گھنٹے طویل بحث کارات 1:15 بجے انتہائی مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ مسلم کمیونٹی کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے لایا گیا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ وقف املاک میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات اور ملک بھر کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کی زیادہ سے زیادہ تجاویز کو بل میں شامل کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مسودہ بل اور اصل بل کے فارمیٹس کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جن جائیدادوں کے کاغذات ہیں ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ ملک کے مسلمان غریب ہیں، تو یہ سوچنے کی بات ہے کہ وہ کس کی وجہ سے غریب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد کانگریس کی حکومت ملک میں سب سے زیادہ عرصہ اقتدار میں رہی ہے ۔
وقف بورڈ میں غیر مسلموں کو شامل کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ چونکہ وقف بورڈ ایک قانونی ادارہ ہے اس لئے ایسے اداروں کا سیکولر ہونا ضروری ہے ، اس لیے اس میں مسلم کمیونٹی سے الگ کچھ لوگوں کو شامل کیا جا رہا ہے لیکن وہ اکثریت میں نہیں ہوں گے اور وقف بورڈ کا انتظام مسلمانوں کے پاس ہی رہے گا۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک بھر سے کئی وفود نے وقف بورڈ میں اجارہ داری ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے تمام طبقات کو نمائندگی دے کر بل کو شامل کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بل سے مسلمانوں کو فائدہ ہونے والا ہے اور اپوزیشن کو غیر ضروری طور پر لوگوں کو گمراہ نہیں کرنا چاہئے ۔
ان کے جواب کے بعد ایوان نے بل کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ ترمیمی تجاویز کانگریس کے ناصر حسین، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے پی سندھوش کمار، جان برٹاس، سی پی آئی (ایم) کے اے اے رحیم، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے وی شیواداسن، راشٹریہ جنتا دل کے منوج جھا، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کی فوزیہ خان، ڈی ایم کے ، کے تروچھی شیوا، ڈی ایم کے کی کنیموزی ایک وی این سومو، آئی یو ایم ایل کے عبدالوہاب اور سی پی آئی کے پی پی سنیروغیرہ نے دی تھیں۔