سرینگر//
جموں کشمیر حکومت نے غریب لڑکیوں کے لیے ریاستی میرج اسسٹنس اسکیم (ایس ایم اے ایس) کے تحت انتیودیہ انا یوجنا (اے اے وائی) راشن کارڈ ہولڈر کنبوں کے لیے مالی امداد۵۰ ہزار روپے سے بڑھا کر ۷۵ ہزار روپے کر دی ہے۔
ایک آرڈر کے مطابق ترجیحی گھریلو (پی ایچ ایچ) راشن کارڈ ہولڈروں کیلئے امداد۵۰ہزارروپے پر برقرار ہے۔ نئی اسکیم یکم اپریل ۲۰۲۵ سے نافذ العمل ہوگی۔
آرڈر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شادی سے پہلے براہ راست بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کے ذریعے مالی امداد براہ راست فائدہ اٹھانے والے کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔
اس اسکیم کا اطلاق صرف اہل اے اے وائی اور پی ایچ ایچ راشن کارڈ ہولڈروں پر ہوتا ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ معاشی طور پر کمزور طبقوں کو شادی کے اخراجات کیلئے مدد ملے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ وقار اور بااختیار بنانے کی سمت میں ایک قدم ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ ہماری حکومت ضرورت مند ہر گھر کی ترقی کے لئے پرعزم ہے۔ ’’یہ مدد شادی سے پہلے براہ راست ڈی بی ٹی کے ذریعے جمع کی جائے گی‘‘۔
یہ فیصلہ ۷ مارچ کو وزیر اعلی عمر عبداللہ کی بجٹ تقریر کے بعد کیا گیا ہے ، جس میں انہوں نے غریبوں کے حق میں متعدد اقدامات کا اعلان کیا تھا ، جس میں اے اے وائی زمرے کی لڑکیوں کے لئے شادی کی امداد میں اضافہ بھی شامل ہے۔
ایک اور بڑی فلاحی پہل میں جموں کشمیر حکومت نے پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (پی ڈی ایس) کے تحت چار یا اس سے زیادہ ممبروں والے اے اے وائی گھرانوں کو اضافی اناج مفت تقسیم کرنے کی منظوری دی ہے۔
اس اقدام کا مقصد خطے کے سب سے کمزور خاندانوں کیلئے غذائی تحفظ کو مضبوط بنانا اور بجٹ ۲۰۲۵۔۲۶ میں کئے گئے ایک اہم وعدے کو پورا کرنا ہے۔
عمر عبداللہ نے اس اقدام کو عوام دوست فیصلہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اپنے وعدوں کو پورا کررہی ہے۔ان کاکہنا تھا’’ ہم اپنے سب سے کمزور خاندانوں کے لئے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔ اس اقدام کے تحت اے اے وائی کے تمام گھرانوں کو اضافی اناج مفت ملے گا۔ ۴ یا اس سے زیادہ ممبروں والے کنبے کے ہر مستفید کو ۱۰ کلو گرام تک اناج ملے گا، جس سے سماجی بہبود کے لئے ہمارے عزم کو تقویت ملے گی‘‘۔
خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے اپنی حکومت کے عزم کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیراعلیٰ نے یکم اپریل کو شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی) سے زیرو ٹکٹ ٹریول انیشی ایٹو یعنی خواتین کے لئے مفت سرکاری بس سروس کا بھی آغاز کیا تھا۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام سے ایک ایسا ماحول پیدا ہوگا جہاں خواتین مالی رکاوٹوں کے بغیر آزادانہ طور پر سفر کرنے کے لئے بااختیار محسوس کریں گی۔ ان کاکہنا تھا’’یہ پورے جموں کشمیر میں خواتین کے لئے صنفی مساوات اور نقل و حرکت کو یقینی بنانے کی سمت میں ایک اور قدم ہے‘‘۔
عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت نے ایک اور وعدہ پورا کرتے ہوئے خون کے رشتوں کے اندر گفٹ ڈیڈ کے ذریعے جائیداد کی منتقلی پر زیرو اسٹامپ ڈیوٹی نافذ کردی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت جموں و کشمیر نے اسٹامپ ایکٹ ۱۹۷۷ کی دفعہ ۹(اے) کے تحت۲۷ مارچ ۲۰۲۵ کو ایس او۷۵ جاری کیا ہے تاکہ اس طرح کے تبادلوں پر اسٹامپ ڈیوٹی ختم کی جا سکے۔
’خون کے تعلقات‘کی اصطلاح میں والدین، بہن بھائی، بچے اور دادا دادی شامل ہیں۔ یہ نوٹیفکیشن یکم اپریل ۲۰۲۵ سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔