سرینگر///
جموں کشمیر متحدہ مجلس علماء نے پارلیمنٹ میں گزشتہ روز وقف ترمیمی بل کی منظوری پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔
مجلس علمانے کہا کہ یہ دینی ادارے تاریخی طور پر مسلم کمیونٹی کی سماجی و دینی ضروریات کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں اور ان کا وجود ملت کے لیے ناگزیر ہے ۔
ایک بیان میں کہا گیا کہ منظور شدہ ترمیمی بل مسلمانوں کے دینی امور میں براہِ راست مداخلت ہے ، جس کا مقصد ان اداروں کی خودمختاری سلب کرکے مرکز کے ماتحت لانا اور ان پر مزید کنٹرول حاصل کرنا ہے جبکہ بل کے مقاصد کے طور پر جو دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس سے وقف اداروں کے انتظام میں بہتری آئے گی، وہ ناقابل قبول ہے ۔
علماء نے کہاکہ مسلمان اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اس کے پیچھے اصل عزائم کیا ہیں اور ان کے خلاف کی جانے والی پالیسیوں اور اقدامات کے پس منظر میں اس کے کیا مقاصدہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کے تحت مسلمانوں کے مذہبی اور ان کے ملی اداروں کو بتدریج کمزور کیا جا رہا ہے اور ان پر قبضہ جمایا جا رہا ہے ۔
علماء نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں اس نے اپنے تمام اراکین کا ایک اہم اجلاس سوموار‘۷؍اپریل۲۰۲۵کو طلب کیا ہے تاکہ اس معاملے پر تفصیلی غور و خوض کیا جا سکے ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ مجلس علماء کی قیادت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور ملک بھر کی دیگر ممتاز مسلم تنظیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے ۔