سرینگر/۲اپریل
مرکزی وزیر داخلہ‘ امیت شاہ نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں ہو گی۔
شاہ نے کہا کہ وقف میں کسی غیر مسلم رکن کی تقرری کا کوئی اہتمام نہیں ہے‘ ہم ایسا نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
وقف (ترمیمی) بل کی حمایت میں ایوان زیریں میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا”انجانے میں یا سیاسی وجوہات کی بنا پر حزب اختلاف کے ارکان پارلیمنٹ کے ذریعہ کئی غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ وقف کا مطلب ہے ’اللہ کے نام پر مذہبی خیرات کے لیے چندہ‘۔ وقف ایک قسم کا خیراتی وظیفہ ہے جسے واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ عطیات صرف اپنی جائیداد سے کیے جا سکتے ہیں، سرکاری جائیداد سے نہیں“۔
شاہ نے مزید وضاحت کی کہ وقف میں کسی غیر مسلم رکن کی تقرری کا کوئی اہتمام نہیں ہے۔” ہم ایسا نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ وہ(اپوزیشن) اپنے ووٹ بینک کو خوش کرنے کےلئے اس کی مخالفت کر رہے ہیں“۔
مرکزی وزیر داخلہ نے وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران ان جائیدادوں کی ایک لمبی فہرست پیش کی جو انہوں نے کہا کہ وقف کےلئے دی گئی تھیں۔ اس فہرست میں مندروں، دیگر مذاہب، حکومت اور دیگر کی زمینیں شامل تھیں۔ ان کا کہنا تھا”آپ کسی اور کی جائیداد عطیہ نہیں کر سکتے۔ آپ کچھ ایسا عطیہ کرتے ہیں جو آپ کا ہے“۔
یہ حکومت کی اس دلیل کو تقویت دیتا ہے کہ بڑی زمینوں اور املاک کو وقف نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے، دوسروں کے معاملے میں آخری لمحات میں بچت ہوئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وقف اراضی پر قبضہ کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔
شاہ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کرناٹک ہائی کورٹ کو وقف کے ذریعہ 602 مربع کلومیٹر پر قبضہ روکنا پڑا۔
وزیر داخلہ نے کہا”(دہلی کے) لوٹیئنزون میں جائیدادیں وقف کے پاس چلی گئیں، اور انہوں نے سرکاری زمین پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ تمل ناڈو میں ایک 400 سال پرانی مندر کی جائیداد کو وقف کی جائیداد قرار دیا گیا۔ فائیو اسٹار اسٹبلشمنٹ کے لئے زمین وقف کو ماہانہ 12000 روپے میں دی گئی تھی۔ پریاگ راج کے چندر شیکھر آزاد پارک سمیت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی متعدد جائیدادوں کو وقف جائیداد قرار دیا گیا ہے“۔
شاہ نے کہا کہ ترمیم شدہ وقف بل اس کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ بل جائیداد کی حفاظت کرے گا۔ اے ایس آئی کی جائیداد، آدیواسی زمین، نجی جائیداد اور وقف کی طرح، آپ صرف نجی، ذاتی جائیداد عطیہ کرسکتے ہیں نہ کہ برادری (گاو¿ں) کی زمین۔ یہ بل شفافیت لائے گا“۔
وزیر داخلہ نے اس صورتحال کےلئے یو پی اے حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ وقف قوانین کو 2014 کے عام انتخابات سے کچھ دن پہلے تبدیل کیا گیا تھا۔
شاہ نے اسے خوش نودی کی سیاست کی ایک اور مثال قرار دیتے ہوئے کہا” 2013 میں انہوں نے (کانگریس کی قیادت والی حکومت نے) زمین پر قبضہ کرنے کی شکایتوں کو عدالت میں لے جانے کی شق کو ختم کر دیا تھا۔ انہوں نے گناہ کیا۔ نیا بل ماضی میں نافذ نہیں ہوگا، لیکن وہ لوگوں کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں“۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے ترامیم لانے سے پہلے آبادی کے مختلف طبقوں سے مشورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا”ہمیں لوگوں سے ایک کروڑ سے زیادہ تجاویز ملی ہیں۔ ہمارا اصول واضح ہے، ہم ووٹ بینک کے لیے کوئی قانون نہیں لائیں گے، یہ انصاف کے لیے ہے“۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس بل کو کیرالہ کے عیسائیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔