جے پور//
راجستھان انٹیلی جنس کی اسٹیٹ اسپیشل برانچ نے پردیپ کمار نامی ایک فوجی اہلکار کو گرفتار کیا ہے جس نے ہنی ٹریپ کا شکار ہونے کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے ہندوستانی فوج کی سٹریٹجک اہمیت کی خفیہ معلومات پاکستانی خفیہ ایجنسی کو فراہم کی تھیں۔
ڈی جی انٹیلی جنس امیش مشرا نے کہا کہ انٹیلی جنس کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ بھارتی فوج کی انتہائی حساس رجمنٹ جودھپور میں کام کرنے والا ایک فوجی سپاہی پردیپ کمار سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا۔
اس پر سی آئی ڈی انٹیلی جنس نے پردیپ کمار کی سرگرمیوں پر سخت نظر رکھی اور اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ پردیپ واٹس ایپ کے ذریعے پاکستانی خفیہ ایجنسی کی خاتون ایجنٹ سے مسلسل رابطے میں ہے‘ جو سوشل میڈیا کے ذریعے خاتون ایجنٹ کو سٹریٹجک اہمیت کی معلومات شیئر کر رہا ہے۔
۱۸ مئی کی دوپہر پردیپ کو حراست میں لے کر جے پور لایا گیا اور پوچھ تاچھ کی گئی۔ پوچھ گچھ کے بعد پردیپ کو ریاستی اسپیشل برانچ نے ہفتہ کو گرفتار کر لیا۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ۲۴ سالہ پردیپ کمار۳ سال قبل ہندوستانی فوج میں بھرتی ہوا تھا اور تربیت کے بعد اسے گنر کی پوسٹ پر تعینات کیا گیا تھا۔
اس کے بعد پردیپ کی پوسٹنگ انتہائی حساس رجمنٹ جودھپور میں ہوئی اور تقریباً ۷ماہ قبل پردیپ کے موبائل فون پر مذکورہ خاتون کی کال آئی۔ فون کرنے والے نے اپنا نام ریا بتایا اور خود کو گوالیار مدھیہ پردیش کا رہنے والا بتایا اور اس وقت بنگلور میں ملٹری نرسنگ سروسز میں تعینات ہے۔
اس کے بعد پاکستانی خاتون ایجنٹ نے پردیپ کو ہنی ٹریپ میں پھنسایا اور اس کے ساتھ واٹس ایپ پر چیٹنگ، وائس کالز اور ویڈیو کالز شروع کر دیں۔
پاکستانی خاتون ایجنٹ نے دہلی میں پردیپ سے ملاقات اور شادی کے بہانے فوج سے متعلق خفیہ دستاویزات کی تصاویر مانگنا شروع کر دیں۔ ہنی ٹریپ میں پھنسے پردیپ نے اپنے دفتر سے فوج سے متعلق خفیہ دستاویزات کی تصاویر پاکستانی خاتون ایجنٹ کو اپنے موبائل سے چوری کرکے واٹس ایپ کے ذریعے بھیجنا شروع کر دیا۔