جموں//
جموںکشمیر سے تعلق رکھنے والے کوہ پیمائوں کو پیشہ ور تربیت حاصل کرنے کیلئے بالآخر باہر جانے کی کوفت سے نجات مل ہی گئی کیونکہ مندروں کے شہر جموں کے قلب میں واقع مولانا آزاد اسٹیڈیم میں سال رواں کے ماہ اپریل کے آخر تک اپنی نوعیت کی پہلا مصنوعی کلائمبنگ وال (چڑھائی دیوار) تیار ہو رہی ہے ۔
جموں وکشمیر مائونٹنیرنگ ایسو سی ایشن (ایم اے جے کے ) کے ارکین اور کوہ پیما اس پیش رفت سے انتہائی خوش نظر آ رہے ہیں۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف سپورٹ کلائمبنگ (آئی ایف ایس سی) کی طرف سے تصدیق شدہ۹۰ء۳لاکھ رویے لاگت کی۱۵میٹر اونچی دیوار پرکیٹس وال کے علاوہ لیڈ کلائمبنگ، بولڈرنگ، سپیڈ کلائمبنگ کے شعبوں میں سہولت فراہم کرے گی۔
جموں وکشمیر اسپورٹس کونسل کی سکریٹری‘ نزہت گل نے کہا’’ہم بین الاقوامی معیار کا بنیادی ڈھانچہ بنانے کیلئے پر عزم ہیں اور اس عزم کے تحت لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی ہدایت پر مولانا آزاد اسٹیڈیم میں پہلی کلائمبنگ دیوار تعمیر کی جا رہی ہے ‘‘۔
گل نے کہا کہ کوہ پیمائوں کا دیرینہ خواب بالآخر شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے اور بہت جلد کوہ پیما یہاں تربیتی سیشنوں میں حصہ لیں گے ۔
اسپورٹس کونسل کی سکریٹری نے یقین دہانی کی باقاعدہ تربیتی سیشنوں کے علاوہ قومی و بین الاقوامی سطح کے ماہرین کی نگرانی میں جموں و کشمیر کے کوہ پیمائوں کو سرٹیفائیڈ کورسز کرائے جائیں گے ۔
دریں اثنا ایم اے جے کے کے صدر‘ زورا ور سنگھ جموال نے مولانا آزاد اسٹیدیم میں یہ سہولیت فراہم کرنے پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا’’ہم انتظامیہ کے اس اہم اقدام کا استقبال کرتے ہیں‘‘۔
جموال کا کہنا ہے کہ جموںکشمیر میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس کلائمبنگ وال کی تعمیر سے ہمارے کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے ملک کا نام روشن کریں گے ۔
ایم اے جے کے کے سینئر نائب صدر رام کھجوریہ نے دعویٰ کیا کہ پہلے کوہ پیمائوں کو تربیت کیلئے جموں وکشمیر سے باہر جانا پڑتا تھا جو کافی مہنگا تھا لیکن اب اس مصنوعی کلائمبنگ وال کی تعمیر سے ان کو اس کوفت سے نجات ملے گی۔
کھجوریہ نے کہا کہ جموں کے قلب میں اس وال کی تعمیر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ کو پیمائوں کو اپنی طرف متوجہ کرے گی ۔