(ایجنسیاں )
سرینگر؍ ۴ نومبر
جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے دارالعلوم جامعہ سراج العلوم شوپیاں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دینے والے پرنسپل اینڈ سیشنز جج شوپیاں کے حکم پر روک لگا دی ہے۔ ادارے کو رواں سال غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس محمد یوسف وانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری اور دیگر کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ہدایت دی کہ متنازع حکم جاری ہونے کے روز ادارے میں زیرِ تعلیم طلبہ کو متاثر نہ کیا جائے۔
بنچ نے ادارے اور ایک دیگر فریق کو نوٹس جاری کیا۔ ان کے وکیل نے رسمی نوٹس سے استثنیٰ حاصل کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت طلب کی۔ عدالت نے معاملے کو مزید سماعت کے لیے یکم فروری کو فہرست میں شامل کیا۔
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ شوپیاں عدالت کے حکم پر روک اگلی سماعت تک برقرار رہے گی، تاہم یہ فریقین کی جانب سے داخل کیے جانے والے اعتراضات سے مشروط ہوگی۔
اس سال ستمبر میں پرنسپل اینڈ سیشنز جج شوپیاں نے حتمی فیصلے تک ادارے کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی تھی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں حکومت کی جانب سے پیش کردہ مواد پورے ادارے کی مسلسل بندش کا جواز فراہم کرنے کے لیے ناکافی تھا۔
شوپیاں عدالت نے حکومت کو ادارے کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی دی تھی۔
ادارے کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ طویل بندش سے تقریباً ۱۲۰۰ طلبہ، جن میں لگ بھگ ۴۰۰ رہائشی طلبہ شامل ہیں، مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ادارے کی املاک کی دیکھ بھال بھی متاثر ہو رہی ہے۔
دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو اپریل میں ڈویژنل کمشنر کشمیر کے حکم کے بعد بند کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی مدرسے اور پابندی عائد جماعتِ اسلامی کے درمیان مبینہ طور پر مسلسل اور خفیہ روابط کے الزامات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔










