(ایجنسیاں )
جموں؍ ۴ نومبر
جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے بدھ کو بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ آغا روح اللہ کو گمراہ کرکے نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے اور توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
آغا سید روح اللہ مہدی نے منگل کو لوک سبھا کی رکنیت اور نیشنل کانفرنس سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے پارٹی قیادت، خصوصاً وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنے کے وعدوں سے انحراف کا الزام عائد کیا تھا۔ اس دوران بی جے پی نے علاقائی جماعت کے اندرونی اختلافات میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے انکار کیا تھا۔
پارٹی کے ۱۰ ارکان اسمبلی میں ناراضگی اور آغا روح اللہ کے رکن پارلیمان اور پارٹی سے استعفے کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے چودھری نے کہا کہ بی جے پی کو اپنے کردار کی وضاحت کرنی چاہیے، خصوصاً اس کے سینئر رہنما رام مادھو کے بیان کے تناظر میں۔
نائب وزیر اعلیٰ نے یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’آغا روح اللہ کے استعفے کے فوراً بعد بی جے پی رہنما رام مادھو نے بیان دیا کہ آغا صاحب کے پروگرام میں شرکت کرنے والے تمام لوگ ان کے اپنے لوگ ہیں۔ پھر آپ ہم سے یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہیں؟ جائیے اور بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما سے پوچھئے۔‘‘
بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پارٹی نے روح اللہ کو گمراہ کیا، جو ان کے بقول ایک شریف اور معزز شخص ہیں۔انہوں نے کہا، ’’آغا صاحب ایک اچھے اور معزز شخص تھے۔ بی جے پی نے انہیں گمراہ کیا اور کل خود بی جے پی نے کہا کہ آغا صاحب ان کے آدمی ہیں۔ یہ میں نہیں کہہ رہا، بلکہ رام مادھو نے خود کہا ہے۔‘‘
چودھری نے سوال اٹھایا کہ اگر رام مادھو کے دعوے کے مطابق آغا روح اللہ کے پروگرام میں شرکت کرنے والے افراد بی جے پی سے تعلق رکھتے تھے تو پھر روح اللہ کا نیشنل کانفرنس سے کیا تعلق رہ گیا تھا؟
ایک صحافی کی جانب سے یہ نشاندہی کیے جانے پر کہ رام مادھو نے روح اللہ کے ساتھ حکومت تشکیل دینے کے امکان کو مسترد کیا ہے، نائب وزیر اعلیٰ نے بی جے پی سے اپنا موقف واضح کرنے کو کہا۔انہوں نے کہا، ’’اگر آغا صاحب آپ کے آدمی تھے تو پھر آپ یہ سارا ڈرامہ کیوں کر رہے تھے؟ بی جے پی ہمیشہ ڈرامہ کرتی رہتی ہے۔‘‘
سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد، آغا روح اللہ اور رکن پارلیمان انجینئر رشید پر مشتمل کسی نئی سیاسی جماعت کے قیام کے امکانات کے بارے میں پوچھے جانے پر چودھری نے سوال کو مسترد کرتے ہوئے صحافی سے کہا، ’’آپ کب سے ان کے ترجمان بن گئے؟ آپ کو کب سے معلوم ہونے لگا کہ وہ کیا منصوبہ بنا رہے ہیں؟‘‘انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والی پیش رفت پر بھی توجہ مرکوز کرے۔
بی جے پی کے قومی نائب صدر رام مادھو نے منگل کو کہا تھا کہ بڈگام میں روح اللہ کی ریلی ’’ہمارے لوگوں کی دعاؤں اور حمایت‘‘ سے منعقد ہوئی۔
ان کے اس بیان پر نیشنل کانفرنس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا، ’’اس سے واضح ہوتا ہے کہ رکن اسمبلی کے پاس بی جے پی کے خلاف کہنے کے لیے کچھ کیوں نہیں تھا۔‘‘
رام مادھو نے کہا تھا، ’’میں اس معاملے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہوں گا، لیکن نیشنل کانفرنس آج واضح طور پر تقسیم نظر آ رہی ہے۔ روح اللہ آج ہمارے لوگوں کی حمایت سے ریلی منعقد کر رہے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ رام مادھو نے ۲۰۱۵ء اور ۲۰۱۶ء کے دوران جموں و کشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس سے قبل چودھری نے پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) کے تحت ۶۸ سڑکوں کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا۔ ان سڑکوں کی مجموعی لمبائی ۴۹۵.۴۸ کلومیٹر ہے، جبکہ ان کی منظور شدہ لاگت ۱,۱۶۴.۰۶ کروڑ روپے ہے۔
سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب جموں کے رکن پارلیمان اور مختلف ارکان اسمبلی کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔یہ منصوبہ خطے میں سڑک رابطے کو مستحکم بنانے اور ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، خصوصاً دیہی اور دور دراز علاقوں میں۔
۔۔۔۔۔۔۔










