عارضی ڈھانچے خاکستر‘وزیر اعلیٰ کو دکھ‘ متاثرین میں معاوضہ
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍ ۴ نومبر
سرینگر کے بمنہ علاقے کے دربل میں ۳ اور ۴ نومبر کی درمیانی شب بھیانک آتشزدگی کے نتیجے میں دو افراد ہلاک جبکہ تقریباً ۸۰ عارضی پناہ گاہیں خاکستر ہوگئیں۔
حکام کے مطابق آگ رات تقریباً ۱۲ بج کر ۲۳ منٹ پر لگی، جس نے ترپال اور لکڑی سے تعمیر کردہ تقریباً ۸۰ عارضی پناہ گاہوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس دوران ایک خالی پولٹری فارم اور ایک ٹپر کو بھی نقصان پہنچا۔
آگ پر قابو پانے کے لیے فائر اسٹیشن جے وی سی اور راولپورہ سے فائر ٹینڈرز روانہ کیے گئے، جبکہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ہیڈکوارٹر بتہ مالو سے اضافی عملہ اور گاڑیاں بھی طلب کی گئیں۔
حکام نے بتایا کہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دیے جانے سے قبل آگ پورے علاقے میں پھیل چکی تھی۔
آگ پر قابو پانے کے بعد ملبے سے دو لاشیں برآمد کی گئیں۔ہلاک شدگان کی شناخت محمد نور عالم (۲۷)، ولد عبدالوہاب، ساکن دہلی، حال مقیم دربل، اور الامین (۱۶)، ولد محمد رفیع، ساکن دہلی، حال مقیم کپواڑہ کے طور پر کی گئی ہے۔
دونوں دربل علاقے میں کباڑ جمع کرنے کا کام کرتے تھے۔ایف ایس ایل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد لاشیں مقامی پولیس کے حوالے کردی گئیں۔آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے۔
فائر فائٹنگ کارروائی میں ڈپٹی ڈائریکٹر کمانڈ سرینگر ڈاکٹر عاقب حسین میر، موبلائزنگ افسر اعجاز احمد شاہ، ڈی ایف او سٹی اور ڈی ایف او ہیڈکوارٹرز نے تال میل قائم رکھا۔
دریں اثنا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آتشزدگی کے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور مہلوکین کے قریبی لواحقین کے لیے فی کس ۲ لاکھ روپے کی ایکس گریشیا امداد کا اعلان کیا۔
وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری امداد اور تمام ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تباہ کن آتشزدگی کے بعد متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات پوری کرنے اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔










