نئی دہلی؍ یکم اکتوبر
دہلی کی ایک عدالت نے کالعدم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے جیل میں قید سربراہ یاسین ملک اور دیگر چھ افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے مطابق یہ معاملہ حوالہ کے ذریعے پاکستان سے رقوم وصول کرنے سے متعلق ہے۔
خصوصی جج پرشانت شرما نے۹ستمبر کو یاسین ملک اور دیگر کے خلاف انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کی دفعہ۳ (منی لانڈرنگ کا جرم) اور دفعہ۴ (منی لانڈرنگ کی سزا) کے تحت الزامات عائد کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ ساتوں ملزمان کے خلاف ’’بادی النظر میں مضبوط شبہ‘‘ موجود ہے۔
دیگر ملزمان میں ظہور احمد شاہ وٹالی، عبدالراشد شیخ، شبیر احمد شاہ، نول کشور کپور، مسرت عالم بٹ اور ٹرائسن فرمز اینڈ کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔
ایجنسی نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے اپنے علیحدگی پسند ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے پاکستانی اداروں سے رقوم وصول کیں۔
عدالتی ذرائع کے مطابق۳۰ ستمبر کو الزامات کی باضابطہ تشکیل کے لیے ملزمان کو عدالت میں جسمانی طور پر پیش نہیں کیا جاسکا، جس کے بعد جج نے ای ڈی کو ہدایت دی کہ وہ ان جیلوں میں ملزمان سے الزامات پر دستخط کروائے جہاں وہ قید ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ عدالت نے مزید کارروائی کے لیے معاملہ۳۰؍ اکتوبر کو مقرر کیا ہے۔
ای ڈی کا یہ مقدمہ۲۰۱۷ کے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے مقدمے سے شروع ہوا، جس میں ایجنسی نے ملزمان کے خلاف بھارتی تعزیراتِ ہند اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت مجرمانہ سازش سمیت متعدد دفعات عائد کی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










