سرینگر؍ یکم اکتوبر
جموں و کشمیر حکومت نے جے اینڈ کے الیکٹرک وہیکل پالیسی۲۰۲۶کو باقاعدہ طور پر نافذ کردیا ہے۔ یہ پالیسی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں منعقدہ وزراء کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی ہے۔ اس کے تحت جموں و کشمیر میں ماحول دوست، سستی اور موسمی حالات کے مطابق قابلِ اعتماد برقی نقل و حرکت کو فروغ دینے کے لیے چھ سالہ منصوبہ وضع کیا گیا ہے۔
۲۰۲۶ سے۲۰۳۲تک نافذ رہنے والی اس پالیسی کا مقصد برقی گاڑیوں کے استعمال کو تیز کرنا، چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور جموں و کشمیر کے تمام۲۰؍اضلاع میں برقی نقل و حرکت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ پالیسی کے تحت۲۰۳۲تک ایک لاکھ۴۰ ہزاربرقی گاڑیوں کے سڑکوں پر آنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے طلب پر مبنی مراعات، موسمی حالات کے مطابق بنیادی ڈھانچہ، بجلی کے نظام کے ساتھ انضمام، سرکاری و نجی شراکت داری، ہنرمندی کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے پالیسی میں۹۰۰ عوامی چارجنگ مقامات قائم کرنے کا منصوبہ شامل ہے، جن میں شہری علاقوں اور شاہراہوں کے اہم راستوں پر۱۴۰ تیز رفتار چارجنگ مراکز بھی شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ عمارتوں کے ضوابط میں ایسی پارکنگ کی گنجائش رکھنے کی شرط شامل کی گئی ہے جہاں پارکنگ کی مجموعی گنجائش کا۲۰ فیصد حصہ برقی گاڑیوں کے لیے تیار رکھا جائے گا۔
جموں و کشمیر کے منفرد موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی میں خصوصی سرمائی جانچ کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت برقی گاڑیوں کی موسم سرما میں کارکردگی کی جانچ کی جائے گی، بالخصوص برف باری اور نقطۂ انجماد سے کم درجہ حرارت میں ان کے استعمال کے حوالے سے۔ پالیسی میں برقی گاڑیوں کی چارجنگ سے پیدا ہونے والی بجلی کی طلب کو بجلی کے نظام کے ساتھ منظم انداز میں مربوط کرنے کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے۔
برقی گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے پالیسی میں برقی گاڑیوں کے قرضوں پر۳۶ ماہ تک۳ سے۵ فیصد شرح سود میں رعایت فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کے ذریعے اہل مستفیدین کے لیے برقی گاڑی خریدنے کی لاگت کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پالیسی میں پرانی گاڑیوں کو اسکریپ کرنے سے منسلک مراعات بھی شامل ہیں، جس کے لیے سالانہ۵۰ کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے تاکہ پرانی گاڑیوں کی جگہ ماحول دوست برقی گاڑیوں کو فروغ دیا جاسکے۔
پالیسی کے تحت ابتدائی مرحلے میں برقی گاڑیاں اختیار کرنے والے پہلے۱۵ہزار۸۰۰ اہل خریداروں کے لیے اضافی مراعات بھی فراہم کی جائیں گی۔ ان میں پہلے۳۰۰ برقی بسوں کے لیے۱۵؍ لاکھ روپے، پہلی۱۵۰۰ ذاتی کاروں کے لیے ایک لاکھ روپے اور پہلے دس ہزار دو پہیہ برقی گاڑیوں کے لیے۵ہزارروپے کی مراعات شامل ہیں۔ تاہم یہ مراعات پالیسی میں مقررہ اہلیت اور شرائط سے مشروط ہوں گی۔
پالیسی میں مرحلہ وار سرکاری اور دیگر گاڑیوں کے بیڑوں کو برقی گاڑیوں میں تبدیل کرنے، چارجنگ نیٹ ورک کو وسعت دینے، نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شرکت اور ابھرتے ہوئے برقی گاڑیوں کے شعبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے کا بھی منصوبہ شامل ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جے اینڈ کے الیکٹرک وہیکل پالیسی۲۰۲۶کے نوٹیفکیشن پر ٹرانسپورٹ وزیر ستیش شرما اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو مبارکباد دی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ پالیسی صاف ستھری نقل و حمل کو فروغ دینے کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کرتی ہے، جس میں جموں و کشمیر کے مخصوص جغرافیائی حالات اور سرد موسم کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
پالیسی کا نوٹیفکیشن عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی صاف ستھری نقل و حرکت کی جانب منتقلی، معاون بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور برقی نقل و حرکت کے شعبے میں نئے مواقع پیدا کرنے کی چھ سالہ حکمت عملی کے باقاعدہ نفاذ کی علامت ہے۔
۔۔۔۔۔(ندائے مشرق)










