سرینگر؍ یکم اکتوبر
جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندواڑہ کے رکن اسمبلی سجاد لون نے جمعرات کو سوال اٹھایا کہ جموں و کشمیر حکومت غریب افراد کی شناخت کس بنیاد پر کرتی ہے۔ انہوں نے غربت کی ایک یکساں اور جامع تعریف وضع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس) کے معیار کی وجہ سے ہزاروں کشمیری نوجوان اپنے جائز سرکاری ملازمتوں کے حصے سے محروم ہو رہے ہیں۔
سجاد لون نے کہا، ’’حکومت غریبوں کی شناخت کیسے کرتی ہے؟ غریب شخص کی تعریف کیا ہے؟ ہمیں غریب اور غربت کی ایک یکساں تعریف کی ضرورت ہے۔‘‘
ہندواڑہ کے ممبر اسمبلی نے کہا کہ حکومت دو متضاد پیمانوں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، ’’غربت کی موجودہ تعریف کے تحت ای ڈبلیو ایس کے جاری کیے گئے سرٹیفکیٹوں میں سے۹۲ فیصد جموں خطے اور۸فیصد کشمیر خطے سے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اس کا تقریباً مطلب یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے۹۲ فیصد غریب افراد جموں خطے میں رہتے ہیں جبکہ صرف۸ فیصد کشمیر میں رہتے ہیں۔
لون نے کہا کہ دوسرا پیمانہ بھی اسی حکومت کی جانب سے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، ’’اسی حکومت کی جانب سے غریب کی ایک اور تعریف خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کے راشن کارڈ، پی ایچ ایچ اور اے اے وائی راشن کارڈ ہیں۔‘‘ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کارڈوں کے حامل افراد کو رعایتی نرخوں پر غذائی اجناس فراہم کی جاتی ہیں اور یہ کارڈ اس بات کے ثبوت کے طور پر کام کرتے ہیں کہ کارڈ رکھنے والا شخص غریب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے ممتاز طبی ادارے، مثلاً ایمس، بھی انہیں غربت کے ثبوت کے طور پر قبول کرتے ہیں۔
پیپلز کانفرنس کے سربراہ نے کہا کہ صرف ایک صورت ایسی ہے جس میں یہ کارڈ مسترد کردیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’واحد موقع جب یہ پی ایچ ایچ/اے اے وائی راشن کارڈ غربت کے ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا جاتا، وہ اس وقت ہے جب جموں و کشمیر کا کوئی شخص سرکاری ملازمت کے لیے درخواست دیتا ہے۔ حکومت بھرتی کے لیے مخصوص ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹ طلب کرتی ہے۔‘‘
اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر میں۳۷ء۷۱ لاکھ پی ایچ ایچ/اے اے وائی راشن کارڈ ہیں، جبکہ جموں میں یہ تعداد۲۹ء۸۱ لاکھ ہے۔ ان کے مطابق، ’’اس تعریف کے تحت۵۵ فیصد غریب افراد کشمیر میں اور۴۵ فیصد جموں میں رہتے ہیں۔ لیکن ای ڈبلیو ایس معیار کی تعریف کے مطابق۹۲ فیصد غریب جموں خطے میں اور۸ فیصد کشمیر خطے میں رہتے ہیں۔‘‘
لون نے انتظامیہ سے سوال کیا، ’’ایک ہی حکومت کے پاس غربت کی دو تعریفیں کیسے ہوسکتی ہیں؟ حکومت غریبوں کے لیے کروڑوں روپے کی سبسڈی کیسے خرچ کرسکتی ہے اور پھر جب وہ ملازمت کے لیے درخواست دیں تو ان کی غربت سے انکار کیسے کرسکتی ہے؟‘‘
ہندواڑہ کے ممبراسمبلی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ دونوں خطوں کے درمیان اتنا بڑا فرق کیسے ہوسکتا ہے۔ لون نے کہا، ’’یہ کیسے ممکن ہے کہ جموں و کشمیر کے دونوں خطے، جو سیکڑوں برس سے ایک ہی معاشی، سماجی اور سیاسی اکائی رہے ہیں، غربت کی اتنی مختلف سطحیں رکھتے ہوں؟ دونوں کے معاشی اشاریے ایک جیسے ہیں۔‘‘
اس فرق کو ناقابلِ فہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’جموں خطے میں۹۲ فیصد غریب اور کشمیر میں صرف۸ فیصد غریب کیسے ہوسکتے ہیں؟ دونوں خطوں کے درمیان غریب اور امیر کا ایسا فرق معاشیات کی دنیا میں ناممکن ہے۔ یہ دراصل معاشیات کے علم ہی کی نفی کرتا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے۔‘‘
مسئلے کی بنیادی وجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لون نے کہا کہ حکومت ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے اثاثوں پر مبنی معیار استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’دیگر شرائط کے علاوہ،۳ء۶۸ مرلہ سے زیادہ کا رہائشی مکان رکھنے والا شخص امیر تصور کیا جاتا ہے۔ کشمیر میں انتہائی غریب شخص کے پاس بھی اس حجم کا مکان ہوتا ہے۔‘‘
لون نے مزید کہا کہ کیرالہ جیسی بعض ریاستیں غربت کے ثبوت کے طور پر راشن کارڈ استعمال کرتی ہیں اور وہاں ’’غریب کی ایک واحد اور یکساں تعریف‘‘ ہے۔
ملازمتوں پر خطے کے لحاظ سے پڑنے والے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے لون نے اسمبلی اجلاس میں اپنے سوالات کے جوابات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’گزشتہ دو برسوں میں حکومت کی جانب سے۷ہزار۵۸۰ ملازمتیں پُر کی گئی ہیں۔ ای ڈبلیو ایس کے لیے۱۰ فیصد ریزرویشن کا مطلب ہے کہ ان میں سے۷۵۸ ملازمتیں ای ڈبلیو ایس کے لیے مختص ہیں۔‘‘
پیپلز کانفرنس کے سربراہ نے کہا، ’’ای ڈبلیو ایس معیار کے تحت۷۵۸ملازمتوں میں سے۶۹۷ جموں خطے اور۶۱ کشمیر خطے کو ملی ہیں۔ اگر پی ایچ ایچ/اے اے وائی راشن کارڈ کے معیار کو بنیاد بنایا جاتا تو۳۴۱ ملازمتیں جموں خطے اور۴۱۷ کشمیر خطے کو ملتیں۔‘‘
لون نے کہا کہ مستقبل کی صورت حال اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس اسمبلی اجلاس میں میرے سوال کے جواب کے مطابق۴۹ہزار۶۷۲ ملازمتوں کی آسامیاں پُر کی جانی ہیں۔ ای ڈبلیو ایس کے لیے۱۰ فیصد ریزرویشن کا مطلب ہے کہ۴ہزار۹۶۷ ملازمتیں ای ڈبلیو ایس کے لیے مختص ہوں گی۔‘‘
ہندواڑہ کے ممبراسمبلی نے مزید کہا، ’’ای ڈبلیو ایس معیار کے تحت ۴ہزار۹۶۷ ملازمتوں میں سے۴ہزار۵۶۹ جموں خطے کو جانے کے لیے تیار ہیں، جبکہ محض۳۹۸ملازمتیں کشمیر خطے کو ملیں گی۔ پی ایچ ایچ/اے اے وائی راشن کارڈ کے معیار کے تحت۲۲۳۵ ملازمتیں جموں اور۲۷۳۲ کشمیر کو ملتیں۔‘‘
موجودہ صورت حال پر تنقید کرتے ہوئے لون نے کہا، ’’جموں اور کشمیر خطوں کے درمیان غربت کا یہ۹۲ فیصد بمقابلہ۸ فیصد کا فرق معاشیات کے علم کی قیمت پر ایک مذاق ہے۔ اور ہم ایک ایسے مذاق کی قیمت چکا رہے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں غریب طلبہ ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹ سے محروم ہورہے ہیں، کیونکہ ان کی حکومت دسویں جماعت کی سطح پر پڑھائی جانے والی بنیادی معاشیات کو سمجھنے سے قاصر ہے۔‘‘
اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اثاثوں پر مبنی معیار کو تبدیل کرنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ معزز اسپیکر نے ہدایت دی ہے کہ یہ معاملہ غور و خوض کا متقاضی ہے اور حکومت کو مختلف ریاستوں میں رائج ای ڈبلیو ایس معیار کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ سجاد لون نے کہا، ’’امید کرتے ہیں کہ حکومت اس پر کام کرے گی۔‘‘
حکومت کے مؤقف کا جواب دیتے ہوئے لون نے کہا، ’’حکومت کہتی ہے کہ معیار تبدیل کرنا اس کے دائرۂ اختیار میں نہیں ہے۔ میں اس سے اختلاف کرتا ہوں۔ یہ اس کے دائرۂ اختیار میں ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)










