نئی دہلی، یکم اکتوبر
سپریم کورٹ نے جمعرات کو ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی کہ وہ ٹریفک جرمانے ادا نہ کرنے والے گاڑی مالکان کے لیے آن لائن اور دیگر گاڑیوں سے متعلق خدمات معطل کردیں۔ ان خدمات میں رجسٹریشن کی تجدید، فٹنس اور آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ (پی یو سی) کا اجرا، ملکیت کی منتقلی اور یہاں تک کہ ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید بھی شامل ہے۔
یہ اقدام سڑکوں کی حفاظت سے متعلق قوانین کے الیکٹرانک نفاذ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ملک گیر کوششوں کا حصہ ہے۔
جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل بنچ نے یہ بھی ہدایت دی کہ جن گاڑیوں کے ای چالان زیر التوا ہیں، انہیں مرکزی پریواہن پورٹل پر بلیک لسٹ کیا جائے، جس کے نتیجے میں ان کی فروخت یا ملکیت کی منتقلی ممکن نہ ہو۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جب تک زیر التوا ٹریفک جرمانے ادا نہیں کیے جاتے، کسی مرکز کو آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ (پی یو سی) جاری کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
متعدد خلاف ورزیوں کے معاملات میں حکام کو ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید روکنے اور پہلے سے جاری لائسنس کو معطل کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
بنچ نے کہا کہ محض ہزاروں یا لاکھوں ای چالان جاری کرنے کا کوئی خاص مقصد نہیں ہے، جب تک حکام جرمانوں کی وصولی یقینی بنانے کے قابل نہ ہوں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ایک مدت کے دوران جاری کیے گئے ای چالانوں کے سلسلے میں تقریباً۴۹ہزار۱۹۴ کروڑ روپے کے جرمانے واجب الادا ہیں، جن میں سے اب تک۲۶ہزار۱۷۵کروڑ روپے وصول کیے جاچکے ہیں۔
اس نے اس بات پر زور دیا کہ حکام کو ’’زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے زمینی سطح پر‘‘ کام کرنا ہوگا۔ عدالت نے کہا، ’’جہاں تک جرمانے وغیرہ کی مؤثر وصولی کے لیے اقدامات کا تعلق ہے، حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان گاڑیوں کے لیے آن لائن خدمات منجمد کردیں جن پر واجب الادا رقم موجود ہے۔ حکام رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی تجدید پر پابندی عائد کریں گے، ڈپلیکیٹ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری نہیں کریں گے اور مالک کے پتے کو اپ ڈیٹ کرنے وغیرہ کی کسی درخواست پر بھی غور نہیں کریں گے۔ حکام اس وقت تک فٹنس سرٹیفکیٹ بھی جاری نہیں کریں گے جب تک تمام زیر التوا ٹریفک جرمانے مکمل طور پر ادا نہیں کردیے جاتے اور مزید یہ کہ متعلقہ گاڑی کو پریواہن پورٹل پر بلیک لسٹ کیا جانا چاہیے۔‘‘
عدالت نے کہا کہ متعدد خلاف ورزیوں کی صورت میں ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید روک دی جائے گی اور پہلے سے نافذ ڈرائیونگ لائسنس کو معطل کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ حکم میں مزید کہا گیا، ’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی مرکز کو پی یو سی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔‘‘
یہ حکم۲۰۱۲ میں دائر کیے گئے سڑکوں کی حفاظت سے متعلق ایک مقدمے میں آیا ہے، جس میں بنچ تقریباً۱۴ برس سے موٹر وہیکل ایکٹ اور مرکزی موٹر وہیکل قواعد پر عمل درآمد کی نگرانی کر رہا ہے۔ ججوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ اگر حکام نے زمینی سطح پر ان ہدایات پر عمل درآمد نہ کیا تو یہ ہدایات محض کاغذوں تک محدود رہ سکتی ہیں۔
عدالت نے مزید تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر۲۸؍اکتوبر۲۰۲۵ کو وزارت سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی جانب سے تیار کردہ معیاری طریقۂ کار پر عمل درآمد کریں اور موٹر وہیکل ایکٹ۱۹۸۸کی دفعہ۱۳۶ ؍اے کو مرکزی موٹر وہیکل قواعد کی دفعہ۱۶۷اے کے ساتھ ملا کر اس کی تعمیل کریں۔
ان دفعات کے تحت رفتار کیمروں، سی سی ٹی وی کیمروں اور اسپیڈ گنز جیسی ٹیکنالوجی کے ذریعے سڑکوں کی حفاظت کی الیکٹرانک نگرانی اور نفاذ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ای-نفاذ کے مقامات کو نوٹیفائی کریں، نفاذی آلات کی خریداری، تنصیب اور ان کی درست پیمائش کے عمل کو حتمی شکل دیں، جبکہ قومی روڈ سیفٹی بورڈ کو اس پر عمل درآمد کی نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔
عدالت نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ الیکٹرانک نفاذ کا عمل صرف ای-چالان جاری کرنے تک محدود نہیں رہ سکتا، گاڑیوں کی بے ترتیب جانچ کی ہدایت دی اور کہا کہ اگر کسی گاڑی پر ایسا ای-چالان پایا جائے جس کی تعمیل نہیں کی گئی ہو تو حکام کو اسے ضبط کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔
بنچ نے۲۰۲۶میں نافذ کیے گئے ترمیم شدہ قاعدہ۲۱(۲۵) کا بھی نوٹس لیا، جس کے تحت ایک سال کی مدت کے دوران موٹر وہیکل ایکٹ یا قواعد کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ جرائم یا خلاف ورزیوں کا ارتکاب عوام کے لیے خلل یا خطرے کا باعث بننے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
عمل درآمد کے حوالے سے بنچ کی تشویش خاص طور پر دہلی کے معاملے میں نمایاں ہوئی۔ عدالت نے دریافت کیا کہ آیا۱۵ ستمبر کو جاری کی گئی اس کی ہدایات پر عمل درآمد کیا گیا ہے یا نہیں۔ عدالت کو امیکس کیوری اور سینئر ایڈووکیٹ گورو اگروال نے بتایا کہ۱۹ ستمبر کو دہلی کے چیف سیکریٹری سے رابطہ کیے جانے کے باوجود اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










