کروڑوں روپے مالیت کے۱۰۸سونے کے سکے، سونے کی بسکٹیں اور دیگر سونے کی اشیا بھی برآمد کی ہیں:سرینگر پولیس
سرینگر، یکم اکتوبر
سرینگر پولیس نے ممنوعہ ادویاتی منشیات کی خریداری، نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی، تقسیم اور مالی معاونت میں مبینہ طور پر ملوث ایک منظم بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔
حکام نے جمعرات کو بتایا کہ کارروائی کے دوران۲لاکھ۱۹ہزارسے زائد گولیاں اور کیپسول ضبط کیے گئے۔
یہ کارروائی پولیس اسٹیشن صفاکدل میں درج ایک ایف آئی آرکی تحقیقات کے دوران عمل میں لائی گئی۔ پولیس کے مطابق اس نیٹ ورک کے روابط جموں و کشمیر سے باہر بھی پھیلے ہوئے تھے۔
پولیس نے بتایا کہ اب تک آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جن میں محمد وسیم زرگر، انعام احمد زرگر، صاحب احمد گنی، انصار حسین بٹ، پیر شکور، ہارون طارق پنڈت، عاقب سلیم اور حارث حمید ملہ شامل ہیں۔ انصار بٹ کو چھوڑ کر باقی تمام ملزمان سرینگر کے رہنے والے ہیں، جبکہ انصار بٹ کا تعلق بڈگام سے ہے۔
پولیس کے مطابق حارث حمید ملہ کو تکنیکی نگرانی کے ذریعے تلاش کیا گیا اور اسے کرناٹک کے شہر بنگلورو سے گرفتار کیا گیا۔
پولیس کی جانب سے کی گئی بڑی برآمدگیوں میں۲لاکھ۱۹ہزار۴۲۵ ؍ادویاتی گولیاں اور کیپسول، کوڈین پر مشتمل۳ء۸۳۰ کلوگرام مائع، ہیروئن جیسا تقریباً۴۰ گرام مادہ اور تقریباً۸۵ء۷۵لاکھ روپے نقد شامل ہیں۔
پولیس نے کروڑوں روپے مالیت کے۱۰۸سونے کے سکے، سونے کی بسکٹیں اور دیگر سونے کی اشیا بھی برآمد کی ہیں۔ اس کے علاوہ دو رولیکس گھڑیاں، ایک ڈائر بیگ، ڈی ایس ایل آر کیمرہ، آئی فون۱۶ پرو میکس، پوائنٹ۳۲بور کی ایک پستول بمعہ دو خالی میگزین اور ایک خنجر بھی برآمد کیا گیا ہے۔ دو گاڑیاں بھی قانون کے تحت ضبط کی گئی ہیں۔
مالیاتی تحقیقات کے حصے کے طور پر عدالت کے احکامات کے بعد بمنہ میں ایکسس بینک میں زرگر کے دو بینک لاکرز کی تلاشی لی گئی، جس کے دوران تقریباً۶۵ لاکھ روپے نقد اور تقریباً۲ء۲۰ کروڑ روپے مالیت کی سونے کی اشیا برآمد ہوئیں۔
پولیس نے بتایا کہ ملزمان سے منسلک متعدد بینک کھاتوں کو منجمد کردیا گیا ہے اور اب تک تقریباً۱ء۰۷ کروڑ روپے کی رقم کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایک رہائشی مکان اور دو گاڑیوں کو بھی این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت ضبط کیا گیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ منشیات کی سپلائی چین کی تحقیقات کے دوران پولیس ٹیموں نے چنڈی گڑھ، پنچکولہ اور امبالہ کا دورہ کیا، جہاں ادویات کے کاروبار سے وابستہ اداروں اور ٹرانسپورٹ ایجنسیوں کی جانچ کی گئی اور ریکارڈ حاصل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق دو دیگر مشتبہ افراد، فیضان فردوس عرف فرزان کھانڈے اور محمد شہوار گور فرار ہیں۔ ڈیجیٹل آلات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے اور پولیس نے کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران مزید گرفتاریاں اور برآمدگیاں بھی ممکن ہیں۔
اس دوران منشیات کی اسمگلنگ اور نشہ آور اشیا کے استعمال کے خلاف جاری مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے اننت ناگ پولیس نے سال۲۰۲۶ کے پہلے نو ماہ کے دوران نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق گزشتہ نو ماہ کے دوران این ڈی پی ایس ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت۴۰۸؍ایف آئی آر درج کی گئیں اور منشیات کی اسمگلنگ اور اس سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث۴۷۶ منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس دوران۵۴۲کلوگرام سے زائد ممنوعہ اشیا اور۲۷ لاکھ۵۲ ہزار۹۷۶ روپے نقد ضبط کیے گئے۔
پولیس نے بتایا کہ۳۵ مقدمات میں تقریباً۶۰ کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کی گئیں، جبکہ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی سے منسلک۲۰ غیر قانونی جائیدادیں، جن کی مالیت تقریباً۲۰کروڑ روپے تھی، منہدم کردی گئیں۔
قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد منشیات مخالف کارروائیوں کے ایک حصے کے طور پر۲ ہزار کلوگرام منشیات تلف کی گئیں، جبکہ۳۰۵ مرلہ سے زائد اراضی پر کی جانے والی غیر قانونی منشیات کی کاشت بھی تباہ کردی گئی۔
پولیس کے مطابق منشیات فروشوں کے قبضے میں موجود۲۷۱ مرلہ سے زائد سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی۔ خواتین منشیات فروشوں اور۱۳ خواتین کاشت کاروں کو بھی گرفتار کیا گیا، جبکہ۸ سرکاری ملازمین منشیات سے متعلق مقدمات میں ملوث پائے گئے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔
مزید برآں‘۱۶ منشیات فروشوں کو پی آئی ٹی این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا، جبکہ منشیات سے متعلق جرائم کے سلسلے میں۲۸ ڈرائیونگ لائسنس اور۲۲ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ منسوخ کیے گئے۔
پولیس نے منشیات کی نقل و حرکت اور سپلائی پر قابو پانے کے لیے ضلع بھر میں مجموعی طور پر۲۹۵ نارکو کاسو کارروائیاں انجام دیں۔ متعلقہ محکموں کے اشتراک سے۲۲۰ میڈیکل اسٹورز کا معائنہ بھی کیا گیا، جس کے دوران۱۹ خلاف ورزیوں کا پتہ چلا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی۔
نفاذِ قانون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے این ڈی پی ایس کے مقدمات کی تفتیش کرنے والے۲۱۳ تفتیشی افسران کو بھی ضلع پولیس دفتر اننت ناگ میں قانونی طریقہ کار اور شواہد سے نمٹنے کے حوالے سے تربیت فراہم کی گئی۔
پولیس نے معاشرے سے منشیات کی لعنت کے خاتمے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عام لوگوں، بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ منشیات سے متعلق سرگرمیوں کی نشاندہی اور ان کی اطلاع دینے میں تعاون کریں۔ پولیس نے کہا کہ معاشرے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی اس اجتماعی جدوجہد میں عوامی تعاون انتہائی اہم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









