جموں؍۲۹ اگست
جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں پولیس نے ایک مبینہ اے ٹی ایم فراڈ میں ملوث شخص کو گرفتار کیا ہے، جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ منشیات کے استعمال اور فروخت میں بھی ملوث تھا۔
پولیس ترجمان کے مطابق مورہ بچائی گاؤں کے رہائشی اعجاز احمد کو سرنکوٹ پولیس اسٹیشن میں دھوکہ دہی اور چوری کے درج مقدمے کی تحقیقات کے دوران گرفتار کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم خاص طور پر ان اے ٹی ایم صارفین کو نشانہ بناتا تھا جہاں سکیورٹی گارڈ تعینات نہیں ہوتے تھے۔
پولیس کے مطابق ملزم صارفین کو اے ٹی ایم سے رقم نکالتے وقت مدد کی پیشکش کرتا، ان کا پن کوڈ دیکھ لیتا اور چالاکی سے ان کا اے ٹی ایم کارڈ دوسرے کارڈ سے تبدیل کردیتا۔ بعد ازاں وہ تبدیل شدہ کارڈ اور حاصل کردہ پن کوڈ استعمال کرکے متاثرین کے بینک اکاؤنٹس سے رقم نکال لیتا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ مبینہ طور پر ایسے فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم ہیروئن خریدنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی، جسے ملزم خود بھی استعمال کرتا اور دوسروں کو فروخت بھی کرتا تھا۔ پولیس نے اس معاملے کو مالی فراڈ اور منشیات کی اسمگلنگ کے درمیان تعلق قرار دیا ہے۔
ترجمان کے مطابق ملزم گزشتہ برس سرنکوٹ پولیس اسٹیشن میں درج مالی فراڈ اور منشیات فروشی کے کئی دیگر مقدمات، جبکہ پونچھ پولیس اسٹیشن میں درج ایک اور منشیات فروشی کے کیس میں بھی ملوث پایا گیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ اسی نوعیت کے کئی دیگر اے ٹی ایم فراڈ سے متعلق شکایات کی بھی تحقیقات جاری ہیں اور مزید روابط کا سراغ لگایا جارہا ہے۔
ملزم اس وقت پولیس ریمانڈ پر ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
دریں اثنا، ایک الگ کارروائی میں پولیس نے جمعہ کے روز ادھم پور ضلع کے رہمبل علاقے میں پھلاتا کے مقام پر چیکنگ کے دوران دو مبینہ منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے۱۳ء۷ گرام ہیروئن برآمد کی۔
پولیس ترجمان کے مطابق گرفتار افراد، جن کی شناخت سری نگر کے رہائشی شوکت احمد لیسو اور وسیم احمد کندے کے طور پر ہوئی ہے، کے خلاف نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکو ٹروپک سبسٹینسز (این ڈی پی ایس) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔ایجنسیاں










