اتوار, اگست 23, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

کشمیر میں گرتی شرحِ پیدائش: مسئلہ صرف طب کا نہیں، معاشرے کا بھی ہے                

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-08-23
in اداریہ
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

جموں و کشمیر میں مجموعی شرحِ پیدائش یعنی ٹوٹل فرٹیلیٹی ریٹ کا۲ء۱ کی متبادل سطح سے گر کر۱ء۵ تک پہنچ جانا بظاہر ایک ایسا اشاریہ ہے جسے صحت عامہ، خاندانی منصوبہ بندی اور خواتین کی بہتر صحت کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، اور یقیناً اس کے کئی مثبت پہلو بھی ہیں۔ خواتین میں تعلیم کا فروغ، زچگی کے دوران بہتر طبی سہولتیں، خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہی، بچوں کی صحت کے حوالے سے شعور اور چھوٹے خاندان کی خواہش کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی علامت سمجھے جا سکتے ہیں۔ لیکن کشمیر میں پیدائش کی شرح میں تیزی سے آنے والی کمی کو محض طبی کامیابی قرار دے کر مطمئن ہو جانا ایک بڑی غلطی ہوگی۔ اس گرتی ہوئی شرح کے پیچھے کچھ طبی وجوہات ضرور ہیں، لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم وہ سماجی تبدیلیاں ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرتی ڈھانچے، شادی کے تصور اور خاندان کی ترجیحات کو اندر سے تبدیل کر دیا ہے۔

                یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ماہرین نے کم ہوتی زرخیزی کے کئی طبی اسباب کی نشاندہی کی ہے۔ دیر سے شادی، ذہنی دباؤ، غیر صحت بخش خوراک، سگریٹ نوشی، جسمانی سرگرمی میں کمی اور بعض ہارمونی مسائل تولیدی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے مردوں میں اسپرم کاؤنٹ میں کمی کا ذکر بھی کیا ہے۔ کشمیر کے مخصوص موسمی حالات، کانگڑی کے زیادہ استعمال، مسلسل ذہنی دباؤ اور کئی دہائیوں سے جاری بے یقینی کے نفسیاتی اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

                خواتین کے حوالے سے طبی ماہرین یہ بھی بتا رہے ہیں کہ شادی میں تاخیر کے باعث بہت سی خواتین اس عمر میں داخل ہو جاتی ہیں جب حمل کے امکانات بتدریج کم ہونے لگتے ہیں اور پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ سب عوامل اپنی جگہ حقیقت رکھتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ شادی میں اتنی تاخیر ہو کیوں رہی ہے؟یہیں سے اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔

متعلقہ

جدید مذبح خانہ: ایک ضرورت‘لیکن ایک ہی نہیں 

کشمیر میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی بڑھتی تعداد

                کشمیر کا معاشرہ، جو کبھی شادی کو خاندان بسانے کی ایک فطری اور نسبتاً سادہ ضرورت سمجھتا تھا، اب اسے سماجی حیثیت، مالی استحکام، ملازمت، آمدنی، نمود و نمائش اور مستقبل کی ضمانت سے جوڑنے لگا ہے۔ آج بہت سے لڑکے والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی تعلیم یافتہ ہو، خوبصورت ہو، بااخلاق ہو، اور ساتھ ہی کماؤ بھی ہو۔ یہاں تک کہ صرف ملازمت کافی نہیں سمجھی جاتی، بلکہ ترجیح یہ ہوتی ہے کہ وہ سرکاری ملازمہ ہو۔ کسی نجی ادارے میں اچھی ملازمت کرنے والی لڑکی بھی کئی مرتبہ سرکاری ملازمت کرنے والی لڑکی کے مقابلے میں کم پسند کی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ایسے رشتے کی تلاش شروع ہو جاتی ہے جس میں تقریباً ہر خوبی ایک ہی لڑکی میں موجود ہو، اور اسی تلاش میں مہینے نہیں، برس گزر جاتے ہیں۔

                یہاں کسی کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ خواتین کا تعلیم یافتہ ہونا یا ملازمت کرنا مسئلہ ہے۔ ہرگز نہیں۔ تعلیم اور معاشی خودمختاری خواتین کا حق بھی ہے اور معاشرے کی ضرورت بھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے شادی کے لیے توقعات اس قدر بڑھا دی ہیں کہ ایک مناسب اور معقول رشتہ بھی ناکافی دکھائی دینے لگا ہے۔ ایک طرف ہم اپنی بیٹیوں کے لیے اچھی تعلیم اور بہتر مستقبل چاہتے ہیں، دوسری طرف رشتے کے مرحلے پر ان سے ایسی شرائط وابستہ کر دیتے ہیں جو ہر خاندان پوری نہیں کر سکتا۔ کہیں لڑکی کی عمر کم ہونی چاہیے، کہیں وہ لازماً ملازمت پیشہ ہو، کہیں سرکاری ملازمت ضروری ہے، کہیں خاندان کا معیار، کہیں آمدنی، اور کہیں سماجی حیثیت۔ یوں شادی ایک انسانی رشتے کے بجائے مطلوبہ خصوصیات کے کسی طویل انتخابی عمل میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔

                اس کا ایک افسوس ناک نتیجہ یہ ہے کہ وہی لڑکی جس کے لیے کم عمری میں اچھے رشتے دستیاب ہو سکتے تھے، اعلیٰ تعلیم، ملازمت اور پھر ’’مناسب‘‘ رشتہ کی تلاش کے دوران اس عمر تک پہنچ جاتی ہے جہاں شادی کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں اور اولاد کے امکانات بھی۔ مسئلہ صرف لڑکیوں کا نہیں؛ لڑکے بھی سرکاری ملازمت، مستقل آمدنی اور مضبوط مالی بنیاد کے انتظار میں شادی مؤخر کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں چونکہ خواتین کے لیے حیاتیاتی طور پر تولیدی عمر کا دائرہ نسبتاً محدود ہے، اس لیے تاخیر کا اثر ان پر زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔

                ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ شادی اور اولاد سے متعلق ہماری موجودہ ترجیحات کہاں سے آئی ہیں۔ ہم نے ایک طرف مہنگی شادیوں کو معیار بنایا، دوسری طرف جہیز، رسومات، ہال، ملبوسات اور تقریبات کو اتنا بڑھا دیا کہ متوسط طبقے کے لیے شادی ایک بھاری مالی منصوبہ بن گئی۔ نتیجہ یہ ہے کہ والدین بھی تاخیر کرتے ہیں اور نوجوان بھی۔ بہت سے خاندان پہلے بیٹی کی تعلیم مکمل ہونے کا انتظار کرتے ہیں، پھر ملازمت کا، پھر مستقل آمدنی کا، پھر مناسب رشتے کا اور پھر شادی کے لیے مالی انتظام کا۔ اس سارے عمل میں زندگی کا ایک اہم مرحلہ خاموشی سے گزر جاتا ہے۔

                یہ صورت حال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ اگر شرحِ پیدائش ایک طویل مدت تک متبادل سطح سے نیچے رہتی ہے تو مستقبل میں آبادی کے عمرانی ڈھانچے پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ نوجوانوں کا تناسب کم ہوگا، بزرگوں کی تعداد بڑھے گی، افرادی قوت سکڑ سکتی ہے اور معیشت پر انحصار کا بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ آج جو چیز ہمیں چھوٹے خاندان اور محدود بچوں کی صورت میں سہل معلوم ہو رہی ہے، کل وہ معاشی اور سماجی چیلنج میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

اس لیے کشمیر میں کم ہوتی شرحِ پیدائش پر صرف ہسپتالوں، ڈاکٹروں اور خاندانی منصوبہ بندی کے زاویے سے بحث کافی نہیں۔ ہمیں اپنے معاشرتی رویوں کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ اگر لڑکے والوں کی اولین ترجیح یہ ہوگی کہ لڑکی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ لازماً کماؤ اور بالخصوص سرکاری ملازمہ بھی ہو، تو رشتوں کا دائرہ محدود ہوگا اور شادی میں تاخیر بڑھے گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اچھی بیوی، اچھی ماں اور اچھی انسان بننے کے لیے سرکاری ملازمت لازمی شرط نہیں۔ اسی طرح لڑکی کی تعلیم یا ملازمت کو شادی کی رکاوٹ بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔

                ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، مذہبی و سماجی رہنما، تعلیمی ادارے اور حکومت سب مل کر شادی کے بارے میں ایک متوازن سماجی شعور پیدا کریں۔ سادہ شادیوں کی حوصلہ افزائی ہو، غیر ضروری رسوم اور مالی بوجھ کم کیا جائے، نوجوانوں کو بروقت شادی کے مواقع دیے جائیں، تولیدی صحت کے بارے میں درست طبی آگاہی عام کی جائے اور خواتین و مردوں دونوں کے لیے صحت مند طرز زندگی کو فروغ دیا جائے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا ہوگی

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

مودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی

Next Post

شریف تو بڑے بد معاش ہیں !                

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جدید مذبح خانہ: ایک ضرورت‘لیکن ایک ہی نہیں 

2026-08-22
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی بڑھتی تعداد

2026-08-20
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

مردم شماری: درست اعداد و شمار، بہتر مستقبل کی بنیاد                

2026-08-18
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

آزادی کا جشن، امن کی حفاظت کا عہد                

2026-08-16
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

آزادی کا سفر اور کشمیر کا بدلتا منظرنامہ

2026-08-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

 کشمیر کی بدلتی تصویر اور ہر گھر ترنگا

2026-08-13
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

پارلیمنٹ کا تعطل، جمہوریت کا نقصان                

2026-08-12
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کانی شال کا اعزاز لیکن دستکار کی محنت کا معاوضہ؟                

2026-08-11
Next Post
گلا سڑا گوشت:کیا مسئلہ حل ہو گیا ؟

شریف تو بڑے بد معاش ہیں !                

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.