سرینگر/۱۹؍ اگست
اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے سری نگر کے راج باغ علاقے میں واقع کثیر المنزلہ تجارتی عمارت ’ٹرینڈز‘ کے لیے تعمیراتی اجازت نامے جاری کرنے اور بعد ازاں ان میں ترمیم کے معاملے میں مبینہ بے ضابطگیوں پر متعدد سرکاری افسران اور متعلقہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
حکام کے مطابق اے سی بی سری نگر نے ایک کیس/ایف آئی آردرج کی ہے۔ یہ کارروائی ایک مشترکہ اچانک جانچ اور بعد ازاں کی گئی تصدیق کے بعد عمل میں لائی گئی۔ الزام ہے کہ ہٹرک ریسٹورنٹ کے بالمقابل واقع مذکورہ عمارت کی تعمیر منصوبہ بندی، تعمیرات اور سیلاب سے بچاؤ سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی۔
اے سی بی کے مطابق ابتدائی جانچ میں سرکاری عہدے کے مبینہ غلط استعمال، مجرمانہ سازش اور غیر مجاز تعمیرات میں سہولت فراہم کرنے کے علاوہ تقریباً۲ء۹ کنال سرکاری/کچری اراضی پر مبینہ تجاوزات کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
تحقیقات میں مبینہ طور پر ڈرینج کے بنیادی ڈھانچے پر تعمیرات اور دریائے جہلم کے ممنوعہ دریا کنارے والے علاقے میں تعمیرات کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔
ایف آئی آر میں اُس وقت کے سری نگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سینئر ٹاؤن پلانر منیر احمد خان، سری نگر میونسپل کارپوریشن کے اُس وقت کے جوائنٹ کمشنر پلاننگ آر کے ٹوٹو، اُس وقت کی انچارج اسسٹنٹ ٹاؤن پلانر ایس ایم سی الفت جان اور مستفید ہونے والے گلزار احمد شیخ اور ان کی اہلیہ پروینہ اختر کو نامزد کیا گیا ہے۔
اے سی بی کے مطابق دیگر ایسے افسران کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے جن کا مبینہ بے ضابطگیوں میں کردار سامنے آیا ہے۔
مقدمہ جموں و کشمیر پریوینشن آف کرپشن ایکٹ، اور آر پی سی کی متعلقہ دفعات سمیت دیگر قابلِ اطلاق دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ تحقیقات کی ذمہ داری اے سی بی سری نگر کے ایک مجاز افسر کو سونپی گئی ہے۔
جانچ رپورٹ کے مطابق ایس ایم سی نے ابتدائی طور پر گلزار شیخ ولد حبیب اللہ شیخ، ساکن کنی پورہ شوپیاں، اور ان کی اہلیہ پروینہ اختر، جو اس وقت صنعت نگر سری نگر میں مقیم ہیں، کے حق میں۱۸ جنوری۲۰۰۶ اور۲۰ ستمبر۲۰۰۶ کو بالترتیب تعمیراتی اجازت نامے نمبر۱۰۵۲؍اور۷۲۴ جاری کیے تھے۔
بعد ازاں ایس ایم سی نے۴ نومبر۲۰۰۶کے حکم نامہ نمبر۸۹۱ کے ذریعے یہ اجازت نامے واپس لے لیے تھے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ مذکورہ اراضی کو عوامی پارک کی تعمیر کے لیے حصولِ اراضی کے تحت نوٹیفائی کیا گیا تھا۔
یہ حکم بعد میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے۱۱ ستمبر۲۰۱۳کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ایس ایم سی کے اُس وقت کے جوائنٹ کمشنر پلاننگ نے۷۱؍اکتوبر۲۰۱۵کے حکم نامہ نمبر۲کے ذریعے دونوں تعمیراتی اجازت نامے بحال کردیے۔تاہم اے سی بی نے الزام عائد کیا کہ مستفید افراد نے بحال شدہ منظور شدہ نقشوں کے مطابق تعمیر شروع کرنے کے بجائے اجازت ناموں میں ترمیم کی درخواست دی۔
جانچ کے مطابق۱۸ جولائی۲۰۱۷کو حکم نامہ نمبر۸۰ کے ذریعے ترمیم شدہ اجازت نامہ جاری کیا گیا۔اے سی بی کے مطابق اس ترمیم کے نتیجے میں منظور شدہ تعمیر شدہ رقبہ تقریباً۸۱۰۰ مربع فٹ سے بڑھ کر۱۰۲۶۰مربع فٹ ہوگیا، جبکہ عمارت کی قابلِ اجازت اونچائی۵۰ فٹ سے بڑھا کر۷۰ فٹ کردی گئی۔
بیورو نے الزام عائد کیا کہ یہ تبدیلیاں سری نگر ماسٹر پلان۲۰۰۰۔۲۰۲۱؍اور متعلقہ بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئیں۔جانچ میں مزید کہا گیا کہ ترمیم شدہ تعمیراتی اجازت نامہ جاری کرنے سے قبل متعلقہ محکموں سے لازمی عدم اعتراض سرٹیفکیٹس (این او سی) بھی مبینہ طور پر حاصل نہیں کیے گئے تھے۔
اے سی بی کے مطابق اُس وقت کی انچارج اسسٹنٹ ٹاؤن پلانر الفت جان نے مطلوبہ این او سی حاصل کیے بغیر چوتھی اور پانچویں منزل شامل کرنے سے متعلق ترمیم کی سفارش کی، جس کے بعد اُس وقت کے جوائنٹ کمشنر پلاننگ نے ترمیم شدہ اجازت نامے کی منظوری دی۔بیورو نے سیلاب سے تحفظ سے متعلق ضوابط کے تحت حاصل کی گئی منظوریوں کا بھی جائزہ لیا۔
جانچ کے مطابق چیف انجینئر، محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول نے۱۳؍اکتوبر۲۰۰۵ کو ایک خط کے ذریعے مشروط منظوری جاری کی تھی۔ اس منظوری میں مبینہ طور پر نشاندہی کی گئی تھی کہ یہ مقام دریائی حصے کی اندرونی ڈھلوان کے قریب اور سیلاب کے خطرے والے علاقے میں واقع ہے، اس لیے اس پر مختلف شرائط اور پابندیاں عائد تھیں۔
اے سی بی نے الزام عائد کیا کہ اس کے باوجود۲۰۰۶ میں تعمیراتی اجازت نامے جاری کیے گئے۔جانچ میں مزید بتایا گیا کہ۲۰۱۴ کے تباہ کن سیلاب کے بعد محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے اُس وقت کے چیف انجینئر انجینئر میر جاوید جعفر نے۲۸؍اکتوبر۲۰۱۴ کے ایک سرکلر کے ذریعے پہلے جاری کیے گئے تمام این او سی منسوخ کردیے تھے۔
محکمے کی۸؍ اکتوبر۲۰۲۵ کی بعد کی رپورٹ میں مبینہ طور پر تصدیق کی گئی کہ متعلقہ سروے نمبروں کے حوالے سے کوئی نیا یا بعد ازاں این او سی جاری نہیں کیا گیا۔
اے سی بی نے جائیداد کے اراضی استعمال کی درجہ بندی کا بھی جائزہ لیا۔ بیورو نے الزام عائد کیا کہ اُس وقت کے سری نگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سینئر ٹاؤن پلانر منیر احمد خان نے۱۵؍اپریل۲۰۰۵ کی ایک مراسلت کے ذریعے مذکورہ اراضی کو کمرشل زون(سی ۳۰)میں ظاہر کیا، حالانکہ الزام کے مطابق یہ اراضی سری نگر ماسٹر پلان۲۰۰۰۔۲۰۲۱ کے تحت آبی ذخیرے کا حصہ تھی۔
بیورو تقریباً۲ء۹ کنال سرکاری/کچری اراضی پر مبینہ تجاوزات اور ڈرینج کے بنیادی ڈھانچے کے اوپر تعمیرات کے علاوہ دریائی کنارے اور سیلابی میدان کے علاقے میں کی گئی تعمیرات کی بھی تحقیقات کر رہا ہے۔
اے سی بی نے کہا کہ ایف آئی آر کا اندراج الزامات کی تفصیلی جانچ کے بعد عمل میں لایا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں تاکہ متعلقہ افسران اور مستفید افراد کے کردار اور، اگر کوئی ہو تو، ان کی مجرمانہ ذمہ داری کا تعین کیا جاسکے۔
واضح رہے کہ کسی معاملے میں ایف آئی آر کا اندراج بذاتِ خود جرم ثابت نہیں کرتا۔ ملزمان کا جرم یا بے گناہی قانون کے مطابق تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی طے ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔









