سرینگر؍۱۷ ؍اگست
سری نگر کے قدیم شہر میں واقع تاریخی نقشبند صاحب درگاہ پر پیر کے روز سیکڑوں عقیدت مند جمع ہوئے اور روایتی ’خواجہ دگَر‘ کی نماز ادا کی۔
یہ روایتی نماز ہر سال۳ربیع الاول کو ادا کی جاتی ہے، جس میں کشمیر کے مختلف علاقوں سے عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔ سالانہ اجتماع کے موقع پر درگاہ کے اطراف کی گلیاں عقیدت، یاد اور صدیوں پرانی مذہبی روایت کے رنگ میں ڈوبی نظر آئیں۔
خبر رساں ایجنسی کے این آئی او کے مطابق۷۰ سالہ غلام نبی لون نے کہا، ’’میں بچپن سے اپنے بزرگوں کے ساتھ یہاں آتا رہا ہوں۔ آج میں اپنے خاندان کے ساتھ آیا ہوں۔‘‘
دریں اثنا، میرواعظ عمر فاروق نے دعویٰ کیا کہ انہیں روایتی نماز میں شرکت سے روکنے کے لیے گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے۔
ان کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا، ’’نقشبند صاحب کی درگاہ پر صدیوں پرانی خواجہ دگَر کی روایت سے قبل میرواعظ عمر فاروق کو گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے، جس کے باعث انہیں تاریخی درگاہ پر روایتی وعظ دینے اور نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں










