کسی بھی قوم کے لیے قومی پرچم کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کی تاریخ، آزادی، قربانیوں، اجتماعی شناخت اور مستقبل کے مشترکہ خوابوں کی علامت ہوتا ہے۔ ملک میں ’ہر گھر ترنگا‘ مہم اسی قومی احساس کو عوامی زندگی سے جوڑنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت شروع ہونے والی یہ مہم اب ایک بڑے عوامی جذبے کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ جموں و کشمیر میں، جہاں قومی شناخت، امن اور استحکام کے سوالات کئی دہائیوں تک خصوصی اہمیت رکھتے رہے ہیں، اس مہم کی معنویت فطری طور پر زیادہ گہری محسوس ہوتی ہے۔
بدھ کو سری نگر میں ’ہر گھر ترنگا‘ کے تحت منعقد ہونے والی ترنگا یاترا اور ترنگا مہوتسو نے اس بدلتے ہوئے کشمیر کی ایک خوب صورت تصویر سامنے رکھی۔ ایس کے آئی سی سی سے نکالی گئی ترنگا یاترا بوٹینکل گارڈن تک پہنچی، جہاں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے تقریب سے خطاب کیا۔ قومی پرچم ہاتھوں میں اٹھائے بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت نے اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ قومی تقریبات اب محض رسمی حکومتی پروگرام نہیں رہیں بلکہ عوامی شمولیت کا رنگ اختیار کر رہی ہیں۔
سنہا نے اپنے خطاب میں ’ہر گھر ترنگا‘ کو عوامی شعور کا تہوار اور قومی محبت کی روایت قرار دیتے ہوئے ایک نہایت معنی خیز بات کہی کہ ترنگا صرف گھروں کی چھتوں پر نہیں بلکہ لوگوں کے خیالات، کردار اور اعمال میں بھی بلند رہنا چاہیے۔ دراصل یہی وہ نکتہ ہے جس میں اس پوری مہم کی اصل روح پوشیدہ ہے۔ قومی پرچم کی بلندی محض ایک منظر نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے پیچھے قومی ذمہ داری، دیانت داری، اتحاد، خدمت اور اجتماعی عزم کا جذبہ بھی موجود ہونا چاہیے۔
تقریب میں سنہا نے ’ہر گھر ترنگا‘ کے ساتھ ’وندے ماترم‘ کے۱۵۰ برس مکمل ہونے کو بھی قومی شعور کی ایک بڑی علامت قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر ترنگا قوم کی روح ہے تو ’وندے ماترم‘ اس روح کی لازوال آواز ہے۔ دونوں مہمات کو ایک ساتھ منانا دراصل ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد، قومی خود اعتمادی اور اجتماعی شعور کی اس روایت کو یاد کرنا ہے جس نے ملک کو ایک مشترکہ قومی منزل کی طرف بڑھنے کا حوصلہ دیا۔
جموں و کشمیر میں اس مہم کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہاں گزشتہ کچھ عرصے میں زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ امن و امان میں بہتری، سیاحت کی واپسی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، تعلیمی اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں وسعت، کاروباری امکانات میں اضافہ اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع نے مجموعی ماحول کو نئی سمت دی ہے۔ ’ہر گھر ترنگا‘ اسی بدلتے ہوئے منظرنامے کا ایک علامتی اظہار ہے۔ ہر چھت پر لہراتا ہوا پرچم اس اعتماد کی عکاسی کرتا ہے کہ کشمیر کا مستقبل امن، ترقی، استحکام اور وسیع تر قومی وابستگی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔
بدھ کے پروگرام میں منوج سنہا نے جموں و کشمیر کے عوام، بالخصوص نوجوانوں کی ’وندے ماترم‘ اور ’ہر گھر ترنگا‘ مہم میں شرکت کو پورے ملک کے لیے باعثِ تحریک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بندي پورہ، بارہمولہ، پلوامہ، پونچھ، راجوری، کشتواڑ، جموں اور سری نگر جب ایک ساتھ قومی جذبے کے اظہار کے لیے آگے بڑھتے ہیں تو اس سے ہندوستان کا حوصلہ بلند ہوتا ہے۔ بلاشبہ کشمیر کے مختلف علاقوں کی اس اجتماعی شرکت کی اپنی ایک علامتی اہمیت ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ قومی تقریبات اور اجتماعی شعور اب صرف بڑے شہری مراکز تک محدود نہیں رہے بلکہ دور دراز علاقوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
اس پورے عمل میں نوجوان سب سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کشمیر کی نئی نسل کے پاس توانائی بھی ہے، صلاحیت بھی اور مستقبل کو نئی شکل دینے کا جذبہ بھی۔ ’ہر گھر ترنگا‘ اگر ان کے لیے محض ایک جشن کے بجائے ایک عہد بن جائے تو اس کے اثرات بہت وسیع ہوسکتے ہیں۔ علم حاصل کرنا، کھیل کے میدان میں آگے بڑھنا، کاروبار اور صنعت میں قدم رکھنا، نئی ٹیکنالوجی کو اپنانا، ماحول کا تحفظ کرنا اور سماجی خدمت کو زندگی کا حصہ بنانا بھی دراصل اسی قومی ذمہ داری کا اظہار ہے جس کی طرف آج کی تقریر میں اشارہ کیا گیا۔
قومی یکجہتی صرف جذباتی نعروں سے مضبوط نہیں ہوتی۔ اسے روزمرہ زندگی کے رویوں میں جگہ دینا پڑتی ہے۔ ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جس کے شہری اپنے فرائض کو سمجھتے ہوں، قانون کا احترام کرتے ہوں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہوں اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے کا جذبہ رکھتے ہوں۔ اسی لیے اگر ترنگے کے ساتھ صفائی، شجرکاری، منشیات کے خلاف بیداری، خواتین کی بااختیاری، تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کی ہنرمندی جیسی سرگرمیوں کو بھی آگے بڑھایا جائے تو ’ہر گھر ترنگا‘ ایک وسیع سماجی تحریک کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ ’ہر گھر ترنگا‘ کی علامت اب گھروں کی چھتوں سے آگے بڑھ کر ذہنوں اور دلوں تک پہنچ رہی ہے۔ بچے جب اسکولوں میں ترنگے کے ساتھ تقریبات میں حصہ لیتے ہیں، نوجوان ترنگا یاترا میں شامل ہوتے ہیں، تاجر اپنی دکانوں کو قومی پرچم سے سجاتے ہیں اور دیہی علاقوں میں بھی قومی تقریبات کا اہتمام ہوتا ہے تو اس سے ایک اجتماعی منظر تشکیل پاتا ہے۔ یہ منظر کسی ایک طبقے یا علاقے کا نہیں بلکہ ایک وسیع عوامی شرکت کا عکاس ہوتا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی گزشتہ برس کی ترنگا یاترا میں شرکت اور قومی پرچم کے احترام پر زور بھی اسی مسلسل عمل کی ایک کڑی تھی۔ آج کی تقریب نے اس سلسلے کو مزید وسعت دی ہے۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ قومی یکجہتی کا پیغام سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر عوامی سطح پر اپنی جگہ بنائے۔ ترنگا کسی ایک ادارے، جماعت یا طبقے کی علامت نہیں، بلکہ ہندوستان کی مشترکہ قومی شناخت کی علامت ہے۔
منوج سنہا نے آج یہ بھی کہا کہ ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم اس ہندوستان کی تعمیر میں کیا کردار ادا کررہے ہیں جس کے لیے ہمارے اسلاف، آزادی کے مجاہدین اور بہادر سپاہیوں نے قربانیاں دیں۔ یہ سوال دراصل ہر شہری کے لیے یکساں اہم ہے۔ آزادی کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں ہوتی؛ اسے دیانت، ذمہ داری، محنت، اتحاد، انصاف اور خدمت کے ذریعے بھی محفوظ رکھا جاتا ہے۔
۱۵ ؍اگست کی تقریبات گزر جائیں گی، ریلیاں ختم ہوجائیں گی اور پرچم ممکن ہے گھروں کی چھتوں سے اتار دیے جائیں، لیکن قومی یکجہتی کا جذبہ ختم نہیں ہونا چاہیے۔ اصل کامیابی اسی وقت ہوگی جب ترنگے کے ساتھ وابستہ فخر اور ذمہ داری ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے۔ اگر ایک نوجوان ترنگا لہرانے کے بعد اپنی تعلیم اور ہنر پر توجہ دیتا ہے، ایک تاجر دیانت کو اپنی کاروباری زندگی کا اصول بناتا ہے، ایک شہری اپنے ماحول کی حفاظت کرتا ہے اور معاشرہ امن، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیتا ہے تو قومی پرچم کی معنویت حقیقت میں زندہ رہتی ہے۔
کشمیر میں ’ہر گھر ترنگا‘ اسی لیے ایک اہم اور امید افزا علامت ہے۔ یہ ایک ایسے جموں و کشمیر کی تصویر پیش کرتا ہے جو آگے دیکھنا چاہتا ہے، جو اپنے نوجوانوں کے مستقبل، معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کو اپنی ترجیحات میں شامل کررہا ہے۔ آج سری نگر کی ترنگا یاترا نے اسی بدلتی تصویر کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے۔






