’سرینگر جموںشاہراہ مرمت کیلئے صرف ایک دن کیلئے بند تھی‘
(ایجنسیاں)
سرینگر؍۳۱ جولائی
وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں جمعہ کو موسلا دھار بارش کے باعث کئی مقامات پر اچانک سیلابی صورتحال (فلیش فلڈ) پیدا ہو گئی، جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ۲۴ گھنٹوں کے دوران وادی بھر میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش کی پیش گوئی کی ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق وادی کے بیشتر علاقوں میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب شروع ہونے والی بارش جمعہ کی صبح تک جاری رہی۔ بڈگام، بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔
شدید بارش کے نتیجے میں بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع کے بعض علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، تاہم حکام کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
بانڈی پورہ ضلع کے صدرکوٹ بالا علاقے میں موسلا دھار بارش کے باعث فلیش فلڈ آیا، جس سے سڑکیں اور ایک سرکاری اسکول متاثر ہوا۔
گنائی محلہ، ملپورہ میں واقع گورنمنٹ پرائمری اسکول میں کیچڑ ملا پانی داخل ہونے سے کلاس رومز میں بچھائی گئی چٹائیوں کو نقصان پہنچا، جس کے باعث احتیاطاً دن بھر کے لیے تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی گئیں۔
بارہمولہ ضلع کے سوپور قصبے کے برینر علاقے میں بھی فلیش فلڈ کی صورتحال پیدا ہوئی، تاہم حکام نے بتایا کہ کسی رہائشی یا سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچا۔
انتظامیہ نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر فوری امدادی اقدامات کیے جائیں گے۔
دریں اثنا، محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ۲۴ گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش متوقع ہے، جبکہ مختلف مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند علاقوں میں مختصر دورانیے کی تیز بارش کا بھی امکان ہے۔
محکمہ کے مطابق یہ سلسلہ۴؍ اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے۔
اس دوران انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ جموں،سرینگر قومی شاہراہ پر ٹریفک کی معطلی صرف ایک دن(۳۱جولائی ۲۰۲۶)کے لیے نافذ کی گئی ہے تاکہ شاہراہ پر ڈھلانوں کو محفوظ بنانے، مرمتی کام انجام دینے اور ملبہ ہٹانے کا ضروری کام مکمل کیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی تمام مسافروں اور ہر قسم کی گاڑیوں پر یکساں طور پر لاگو ہے اور اس کا مقصد صرف عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
حکام کے مطابق۱۸ جولائی سے ہونے والی شدید بارشوں کے باعث شاہراہ کے مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ اور پتھروں کے گرنے کے واقعات پیش آئے، جس سے سڑک کو نقصان پہنچا۔ ان مقامات پر بھاری مشینری کے ذریعے بحالی اور حفاظتی کام جاری ہیں، جو ٹریفک کی آمدورفت کے دوران ممکن نہیں۔
انتظامیہ نے بتایا کہ عوام کو پیشگی منصوبہ بندی کا موقع فراہم کرنے کے لیے اس فیصلے کے بارے میں۳۰ جولائی کو ہی باضابطہ اطلاع جاری کر دی گئی تھی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) شاہراہ کو مستقل طور پر محفوظ بنانے اور جلد از جلد ٹریفک بحال کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی ٹیمیں بھی الرٹ رکھی گئی ہیں۔










