نام نہاد انتخابات انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش:جیسوال
(ایجنسیاں)
نئی دہلی؍۲۸ جولائی
وزارتِ خارجہ (ایم ای اے) نے منگل کو کہا کہ پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) میں جاری ’ نام نہاد انتخابی عمل‘ دراصل اسلام آباد کی جانب سے اپنے غیر قانونی قبضے کو چھپانے اور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
وزارت نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام علاقے، بشمول وہ حصے جو اس وقت پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں ہیں، بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں جاری عوامی احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مظاہرے وہاں کی طرزِ حکمرانی اور معاشی حالات کے خلاف عوامی بے اطمینانی کی عکاسی کرتے ہیں۔
جیسوال نے کہا، ’’پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نام نہاد قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس معاملے پر بھارت کا موقف ہمیشہ سے واضح، مستقل اور سب پر عیاں رہا ہے۔ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام مرکزی زیر انتظام علاقے، بشمول وہ خطے جو اس وقت پاکستان کے غیر قانونی اور زبردستی کے قبضے میں ہیں، بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں۔‘‘
وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا، ’’یہ نمائشی انتخابی مشق دراصل پاکستان کی جانب سے اپنے غیر قانونی قبضے کو چھپانے اور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی واضح کر چکے ہیں، پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں جاری عوامی احتجاج وہاں کے عوام کے معاشی استحصال، بنیادی حقوق سے محرومی اور ناقص انتظامی نظام کا براہِ راست نتیجہ ہے۔‘‘
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں مظاہرین نے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی، سیاسی مداخلت اور جمہوری حقوق کو منظم طریقے سے دبانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
یہ شکایات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خطے میں۵۲ روز سے جاری احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ مظاہرین گرفتار افراد کی رہائی، احتجاجیوں کے خلاف مقدمات کے خاتمے اور اپنے دیگر مطالبات کی منظوری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے الزام لگایا ہے کہ حکام پُرامن احتجاج کو کچلنے اور مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے ذریعے جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
احتجاجی قیادت کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل میں من مانی کرکے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے عوامی رائے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور جمہوری ادارے کمزور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ گرفتاریاں، دھمکیاں اور سیکورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی کے ذریعے سیاسی اختلافِ رائے کو دبایا جا رہا ہے۔
ادھر، پیر کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکام کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ہزاروں افراد راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب مارچ کے لیے نکلے، جس کے دوران مظاہرین نے پاکستانی فورسز کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کی شدید مذمت کی۔
اس سے قبل۲۷ جولائی کو جے اے اے سی نے حکام کو دوپہر ایک بجے تک اپنے مطالبات تسلیم کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی مہلت دی تھی اور خبردار کیا تھا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہزاروں افراد راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب مارچ کریں گے۔
معاہدہ نہ ہونے پر ہزاروں افراد راولاکوٹ میں جمع ہوئے اور مظفرآباد کی جانب مارچ شروع کر دیا، جس کے بعد پاکستانی سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی۔
تحریک سے وابستہ عینی شاہدین کے مطابق پیر کی شام ہونے والی اس کارروائی میں کم از کم۱۴؍افراد ہلاک جبکہ تقریباً دو درجن زخمی ہوئے۔










